🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. حكاية مولى آبي اللحم حين أصابته مجاعة شديدة
آبی اللحم کے مولیٰ (غلام) کا قصہ جب وہ شدید قحط میں مبتلا ہوئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7364
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا بشر بن المفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن أبيه إسحاق بن الحارث، عن عمِّه إسحاق بن عبد الله [و] عن (2) أبي بكر بن زيد (3) ، عن عُميرٍ مولى آبي اللحم - وكان عميرٌ مولًى لبني غِفار - قال: أقبلتُ مع ساداتي نريدُ الهجرةَ حتى [إذا] دَنَوْنا من المدينة تركوني في ظهورِهم ودخلوا المدينةَ، فأصابتني مَجَاعةٌ شديدة، فقال لي بعضُ من مرَّ بي من أهل المدينة: لو دخلتَ بعضَ حوائطِ المدينة فأصبتَ من ثمرِها، فدخلتُ حائطًا، فأتيتُ نخلةً فقطعتُ منها قِنوَينِ (4) ، فإذا صاحبُ الحائطِ، فخرج بي حتى أتى رسولَ الله ﷺ، فسألني عن أمرِي فأخبرتُه، فقال:"أيُّهما أفضلُ؟ فأشرتُ إلى أحدِهما، فأمرني بأخذِه، وأمر صاحبَ الحائطِ بأخذِ الآخرِ، وخلَّى سبيلي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7181 - صحيح
آبی اللحم کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بنی غفارہ کے غلام تھے، آپ فرماتے ہیں: ہم اپنے آقاؤں کے ہمراہ ہجرت کر کے آ رہے تھے، ہم لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ چکے تھے، کہ ان لوگوں نے مجھے اپنے پیچھے چھوڑ دیا اور خود مدینہ شریف پہنچ گئے، مجھے بہت سخت بھوک لگ گئی، مدینہ کے کوئی لوگ میرے پاس سے گزرے تو انہوں نے مجھے کہا: اگر تم مدینے کے کسی باغ میں چلے جاؤ تو تمہیں کھانے کے لئے کھجوریں مل سکتی ہیں۔ میں ایک باغ میں چلا گیا، ایک درخت پر چڑھا اور دو گچھے توڑ لئے، اچانک باغ کا مالک آ گیا، وہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کھجوریں توڑنے کی وجہ پوچھی تو میں نے سارا ماجرا کہہ سنایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں گچھوں میں سے اچھا کون سا ہے؟ میں نے ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کر دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ وہ گچھہ میں لے لوں، اور باغ کے مالک کو کہا کہ دوسرا تم لے لو، اور اس کا پیچھا چھوڑ دو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7364]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7364 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) سقطت الواو من النسخ الخطية، وأثبتناها من مصادر التخريج، فأبو بكر بن زيد هو شيخ عبد الرحمن بن إسحاق، وليس شيخ إسحاق بن عبد الله.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں سے حرف "واو" ساقط ہو گیا تھا جسے ہم نے تخریج کے دیگر مآخذ سے ثابت کیا ہے؛ چنانچہ ابو بکر بن زید اصل میں عبد الرحمن بن اسحاق کے شیخ ہیں، نہ کہ اسحاق بن عبد اللہ کے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يزيد، وجاء على الصواب في "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں تحریف کی وجہ سے یہاں "یزید" لکھا گیا ہے، جبکہ "تلخیص الذہبی" میں یہ درست طور پر (زید) موجود ہے۔
(4) تحرف في النسخ الخطية إلى: قوتي، وجاء على الصواب في "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "قوتی" ہو گیا ہے، جبکہ "تلخیص الذہبی" میں درست لفظ موجود ہے۔
(1) حديث حسن، عمُّ إسحاق والد عبد الرحمن لم نقف له على ترجمة، وتابعه أبو بكر بن زيد - وهو ابن المهاجر - متابعة قاصرة فهو شيخ عبد الرحمن بن إسحاق، وقد روى عنه اثنان ولم يؤثر توثيقه عن أحد. وقد روي من وجه آخر عن عمير كما سيأتي.
⚖️ ** درجۂ حدیث: حدیث حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق (جو عبد الرحمن کے والد ہیں) کے چچا کے حالاتِ زندگی (ترجمہ) ہمیں نہیں مل سکے، البتہ ابو بکر بن زید (ابن المهاجر) نے ان کی متابعتِ قاصرہ کی ہے؛ وہ عبد الرحمن بن اسحاق کے شیخ ہیں، ان سے دو راویوں نے روایت کیا ہے مگر کسی (امامِ جرح و تعدیل) سے ان کی توثیق مروی نہیں ہے۔ یہ روایت ایک اور طریق سے عمیر سے بھی مروی ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
وأخرجه أحمد 36/ (21942) عن رِبعي بن إبراهيم، عن عبد الرحمن بن إسحاق، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 39 (24009/ 84) من طريق ابن لهيعة عن محمد بن زيد بن المهاجر، عن عمير بنحوه مختصرًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 36/ (21942) میں ربعی بن ابراہیم کے واسطے سے عبد الرحمن بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد نے 39/ (24009/ 84) میں ابن لہیعہ کے طریق سے محمد بن زید بن المہاجر عن عمیر سے اسی طرح مختصراً روایت کیا ہے۔