المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
42. النهي الواضح عن تحصين الحيطان والنخيل
دیواروں اور کھجور کے درختوں کو (لوگوں سے) محفوظ کرنے (روکنے) کی واضح ممانعت
حدیث نمبر: 7366
أخبرنا السَّيَّاري، حدثنا أبو الموجِّه وعبد الله بن جعفر قالا: أخبرنا علي بن حُجْر السَّعدي، حدثنا عاصم بن سويد، عن محمد بن موسى بن الحارث، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله قال: أتى رسولُ الله ﷺ بين عمرو بن عوف يومَ الأربعاء، فرأى أشياءَ لم يكن رآها قبلَ ذلك من حِصْنةٍ عن النخيل، فقال:"لو أنكم إذا جئتُم عيدَكم هذا مَكَثتُم حتى تسمعُوا من قَوْلي" قالوا: نَعَم بآبائنا أنتَ أي رسولَ الله وأمّهاتِنا، قال: فلما حضروا الجُمعةَ صلَّى بهم رسولُ الله ﷺ الجمعة، ثم صلَّى ركعتين في المسجد، وكان ينصرفُ إلى بيته قبلَ ذلك اليوم، ثم استوى فاستقبلَ الناسَ بوجهه، فتبِعَتْ له الأنصارُ أو من كان منهم حتى وفَّى بهم إليه، فقال:"يا معشرَ الأنصار"، قالوا: لبَّيكَ أيْ رسولَ الله، فقال:"كنتُم في الجاهلية إذ لا تَعبُدون الله تَحمِلونَ الكَلَّ، وتفعلون في أموالِكم المعروفَ، وتفعلون إلى ابن السَّبيل، حتى إذا مَنَّ الله عليكم بالإسلام، ومَنَّ عليكم بنبيِّه، إذا إنكم لتُحصِّنون أموالَكم، وفيما يأكل ابن آدمَ أَجْرٌ، وفيما يأكلُ السَّبُعُ أجرٌ، وفيما يأكل الطيرُ أجرٌ (1) "، فرجعَ القومَ، فما منهم أحدٌ إِلَّا هدم من حديقته ثلاثين بابًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرَّج. وفيه النهيُ الواضح عن تحصين الحيطان والنخيل والكُروم وغيرِها من أنواع الثِّمار عن المحتاجين والجائعين أن يأكلوا منها. وقد خرَّج الشيخانِ ﵄ حديثَ ابن عمر عن النبيِّ ﷺ:"إذا دخلّ أحدُكم حائطَ أخيه، فليأكُلْ منه ولا يَتَّخِذْ خُبْنَةً" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرَّج. وفيه النهيُ الواضح عن تحصين الحيطان والنخيل والكُروم وغيرِها من أنواع الثِّمار عن المحتاجين والجائعين أن يأكلوا منها. وقد خرَّج الشيخانِ ﵄ حديثَ ابن عمر عن النبيِّ ﷺ:"إذا دخلّ أحدُكم حائطَ أخيه، فليأكُلْ منه ولا يَتَّخِذْ خُبْنَةً" (1) .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدھ کے دن بنی عمرو بن عوف میں تشریف لائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں کھجوروں کے باغ کے اطراف میں دیوار دیکھی جو اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ایسا ہو کہ جب تمہارا عید کا دن آئے تو تم اس کو روک لو، یہاں تک کہ تم میری آواز سن لو، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، ہمیں منظور ہے۔ راوی کہتے ہیں: جب وہ لوگ جمعہ کے لئے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جمعہ پڑھایا پھر مسجد میں دو رکعتیں مزید ادا فرمائیں، حالانکہ اس سے پہلے معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد گھر تشریف لے جایا کرتے تھے، پھر لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب متوجہ ہونے لگے، انصار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے، یا جو لوگ بھی وہاں موجود تھے (سب چل پڑے) یہاں تک کہ سب لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو آواز دی، انصار نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاہلیت میں تھے، جب تم اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے، اس وقت بھی تم غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے، اپنا مال نیک راستے میں خرچ کرتے تھے، اور تم مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا، تمہیں اسلام کی دولت سے نوازا، تمہیں اپنا نبی عطا فرمایا۔ اب تم اپنے مالوں کے اطراف میں دیواریں بنانے لگ گئے ہو، ہر وہ چیز جس سے انسان نے کھایا تمہارے لئے اجر ہے، جو چیزیں درندے یا پرندے کھا جاتے ہیں، اس میں بھی اجر ہے۔ لوگ واپس گئے، ہر شخص نے اپنے باغ کے تیس تیس دروازے گرا دیئے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث میں واضح حکم ہے کہ بھوکوں اور غریبوں سے اپنی کھجوریں، اور دیگر پھل بچانے کے لئے باغات کے گرد چار دیواری نہ کی جائے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ ” جب تم اپنے بھائی کے باغ میں جاؤ، تو اس میں سے کھا سکتے ہو، اور ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7366]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7366 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوله: "وفيما يأكل الطير أجر" سقط من (ز).
📝 نوٹ / توضیح: جملہ "اور پرندے جو کھاتے ہیں اس میں بھی اجر ہے" نسخہ (ز) سے ساقط (غائب) ہے۔
(2) إسناده ضعيف، عاصم بن سويد قال أبو حاتم: شيخ محله، الصدق، روي حديثين منكرين، وقال ابن معين: لا أعرفه قال ابن عدي: لم يعرفه لأنه قليل الرواية جدًّا، لعله لم يُرَو عنه غير خمسة أحاديث. وشيخه محمد بن موسى إن كان هو الرؤاسي، فقد قال عنه أبو حاتم: مجهول، وإن كان غيره فلم نقف على أحد وثقه غير ابن حبان في "ثقاته" 7/ 397، وأشار إلى إسنادنا هذا، وأبوه كذلك لم يوثقه غير ابن حبان 5/ 405.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عاصم بن سوید کے متعلق ابو حاتم نے کہا کہ وہ ایک شیخ ہیں جن کا مقام سچائی ہے مگر ان سے دو منکر حدیثیں مروی ہیں۔ ابن معین نے کہا کہ میں انہیں نہیں پہچانتا۔ ابن عدی نے کہا کہ ابن معین نے انہیں اس لیے نہیں پہچانا کیونکہ وہ بہت کم روایت کرنے والے ہیں، شاید ان سے صرف پانچ ہی احادیث مروی ہوں۔ ان کے شیخ محمد بن موسیٰ اگر "الرؤاسی" ہیں تو ابو حاتم نے انہیں "مجہول" کہا ہے، اور اگر کوئی اور ہیں تو ابن حبان (ثقات 7/ 397) کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق نہیں کی، اور ابن حبان نے اسی سند کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کے والد کی توثیق بھی صرف ابن حبان (5/ 405) نے کی ہے۔
وأخرجه ابن خزيمة (1872)، وعنه ابن حبان (2484) عن علي بن حجر السعدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن خزیمہ نے (1872) میں اور ان کے واسطے سے ابن حبان نے (2484) میں علی بن حجر السعدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال ابن خزيمة عنه: إن صحَّ الخبر، فإني لا أقف على سماع موسى بن الحارث من جابر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ابن خزیمہ نے اس کے متعلق فرمایا ہے کہ: "اگر یہ خبر صحیح ثابت ہو جائے (تب بھی) مجھے موسیٰ بن الحارث کا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سماع (سماعت) ثابت ہونے کا علم نہیں ہے"۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (2379)، والبيهقي في "الشعب" (3224) من طريق عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، عن عاصم بن سويد به. وقال الطبراني: لا يروى عن جابر إلَّا بهذا الإسناد، تفرَّد به الحَجَبي! وقد علمتَ أنه متابَع في إسناد الحاكم.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام طبرانی نے "الأوسط" (2379) اور امام بیہقی نے "شعب الایمان" (3224) میں عبد اللہ بن عبد الوہاب الحَجَبی کے طریق سے، انہوں نے عاصم بن سوید سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام طبرانی فرماتے ہیں کہ یہ روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے اور اس میں الحَجَبی (عبد اللہ بن عبد الوہاب) منفرد ہے؛ لیکن جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ امام حاکم کی سند میں اس کی متابعت (تائید) موجود ہے۔
(1) هذا ذهول من الحاكم، فإنهما لم يخرجا حديث ابن عمر هذا، وإنما أخرجه الترمذي (1287) وابن ماجه (2301)، وفي سنده يحيى بن سليم الطائفي متكلم فيه، لكن جاء من حديث عبد الله بن عمرو ما يشهد لمعناه بسند حسن عند أحمد في "مسنده" 11/ (6683).
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ امام حاکم کی سہوِ نظر (بھول) ہے، کیونکہ امام بخاری اور امام مسلم (شیخین) نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث روایت نہیں کی۔ اسے امام ترمذی (1287) اور ابن ماجہ (2301) نے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں یحییٰ بن سلیم الطائفی موجود ہے جن پر کلام کیا گیا ہے (وہ محلِ نظر ہیں)۔ 🧩 متابعات و شواہد: البتہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی روایت سے اس کے معنی کا شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے جو امام احمد کی "مسند" 11/ (6683) میں حسن سند کے ساتھ مروی ہے۔