المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. الأمر باتخاذ المؤذن ، لا يأخذ على أذانه أجرا
ایسے مؤذن مقرر کرنے کا حکم جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔
حدیث نمبر: 737
أخبرَناه أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله القَطَّان ببغداد، حدثنا علي بن محمد بن عبد الملك بن أبي الشَّوارب، حدثنا إبراهيم بن بشَّار، حدثنا سفيان بن عُيَينة (2) ، عن الثَّوري ومالك بن مِغوَل، عن عَوْن بن أبي جُحَيفة، عن أبيه قال: رأيت رسول الله ﷺ نَزَلَ بالأبطَحِ، فذكر الحديث بنحوه (1) . قد اتفق الشيخان على إخراج حديث مالك بن مِغوَل وعمر بن أبي زائدة عن عَوْن بن أبي جُحَيفة عن أبيه في ذِكْر نزوله ﷺ الأبطَحَ، غيرَ أنهما لم يذكرا فيه إدخالَ الإصبَع في الأذنين والاستدارةَ في الأذان. وهو صحيح على شرطهما جميعًا، وهما سُنَّتان مسنونتان.
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابطح کے مقام پر قیام فرمایا۔
شیخین نے ابطح میں قیام کی حدیث تو نقل کی ہے لیکن اذان میں انگلیاں کانوں میں ڈالنے اور چہرہ گھمانے کا تذکرہ نہیں کیا، حالانکہ یہ ان کی شرط پر صحیح ہے اور یہ دونوں طریقے مسنون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 737]
شیخین نے ابطح میں قیام کی حدیث تو نقل کی ہے لیکن اذان میں انگلیاں کانوں میں ڈالنے اور چہرہ گھمانے کا تذکرہ نہیں کیا، حالانکہ یہ ان کی شرط پر صحیح ہے اور یہ دونوں طریقے مسنون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 737]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 737 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ب) والمطبوع مكان "سفيان بن عيينة": إبراهيم بن عتبة، وهو خطأ، وجاء في بقية النسخ الخطية على الصواب، وهو من طريق ابن أبي الشوارب بهذا الإسناد مخرَّج أيضًا عند أبي عوانة في "صحيحه" (1409)، وليس فيه قصة الأذان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) اور مطبوعہ نسخے میں 'سفیان بن عیینہ' کی جگہ 'ابراہیم بن عتبہ' چھپ گیا ہے جو کہ غلط ہے، جبکہ دیگر خطی نسخوں میں یہ درست ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ ابن ابی الشوارب کے طریق سے امام ابو عوانہ کی 'صحیح' (1409) میں بھی مروی ہے، مگر اس میں اذان کا قصہ مذکور نہیں۔
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (18746)، والبخاري (3566)، ومسلم (503) (251)، والنسائي (135) و (4189) من طرق عن مالك بن مغول، بهذا الإسناد. وهو عند بعضهم مختصر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 31/ (18746)، بخاری (3566)، مسلم 503/(251) اور نسائی (135، 4189) نے مالک بن مغول کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، بعض کے ہاں یہ روایت مختصراً مذکور ہے۔
وأخرجه أحمد (18760)، والبخاري (5786)، ومسلم (503) (250) من طريق عمر بن أبي زائدة، عن عون بن أبي جحيفة، به. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (18760)، بخاری (5786) اور مسلم 503/(250) نے عمر بن ابی زائدہ عن عون بن ابی جحیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (1565)، ومسلم (386)، وابن ماجه (721) من طريقين عن الليث، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (1565)، مسلم (386) اور ابن ماجہ (721) نے لیث بن سعد کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔