المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. باب:
باب:
حدیث نمبر: 7384
أخبرنا محمد بن أحمد بن تَميم القَنطَري، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، عن ثَور بن يزيد عن حُصين الحِميَريّ عن أبي سعد الخير، عن أبي هريرة، أن النبي ﷺ قال:"مَن أكل فما لاكَ بلسانه فليَبلَعْ، وما تخلَّلَ فليَلفِظْ، من فعل فقد أحسنَ، ومن لا فلا حرجَ" (1) .
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الأطعمة ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7201 - عبد الله بن محمد بن يحيى هالك
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الأطعمة ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7201 - عبد الله بن محمد بن يحيى هالك
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7384]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7384 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لجهالة حصين الحميري وشيخه أبي سعد الخير هكذا سمَّاه بعض الرواة، وهو وهمٌ كما قال الحافظ ابن حجر في "التهذيب" في ترجمة أبي سعيد الحُبراني، وصوَّب أنه أبو سعيد الحبراني، وأنَّ أبا سعد - أو سعيد - الخير له صحبة أبو قِلابةَ: هو عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وأبو عاصم هو الضحاك بن مخلد النبيل، وثور بن يزيد: هو الشامي الحمصي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں حصین الحمیری اور ان کے شیخ ابو سعد الخیر مجہول (نا معلوم) ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بعض راویوں نے شیخ کا نام "ابو سعد الخیر" ذکر کیا ہے جو کہ وہم ہے؛ جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "تہذیب التہذیب" میں ابو سعید الحبرانی کے ترجمہ میں صراحت کی ہے کہ درست نام "ابو سعید الحبرانی" ہے، جبکہ "ابو سعد (یا سعید) الخیر" صحابی رسول ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: سند میں موجود دیگر راویوں کی تفصیل یہ ہے: ابو قلابہ سے مراد عبدالملک بن محمد الرقاشی ہیں، ابو عاصم سے مراد ضحاک بن مخلد النبیل ہیں، اور ثور بن یزید سے مراد شامی حمصی راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 14 / (8838)، وأبو داود (35)، وابن ماجه (337) و (338) من طريقين عن ثور بن يزيد بهذا الإسناد مطولًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" 14 / (8838)، ابو داؤد نے "سنن" (35) اور ابن ماجہ نے (337) و (338) میں ثور بن یزید کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ طوالت سے روایت کیا ہے۔