المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. أمط الإناء عن فيك ثم تنفس
برتن کو اپنے منہ سے ہٹا کر سانس لو
حدیث نمبر: 7398
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو عامر العَقَدي (2) ، حدثنا زَمْعة بن صالح، عن سلمة بن وَهْرام، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن اختِناثِ الأسقية، وإنَّ رجلًا بعدما نَهَى عنه رسولُ الله ﷺ قام بالليل إلى سقاءٍ فاختَنثَه، فخرجت عليه منه حَيَّةٌ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7212 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7212 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے ساتھ منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کرنے کے بعد کا واقعہ ہے کہ ایک آدمی رات کو اٹھا اور اس نے مشکیزے کو منہ لگا کر پانی پیا، تو اس مشکیزے سے سانپ نکل آیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7398]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7398 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى الغفاري.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف (غلطی) ہو کر "الغفاری" ہو گیا ہے۔
(3) إسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح، لكن النهي عن اختناث الأسقية صحيح كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند زمعہ بن صالح کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: تاہم، مشکیزوں کے منہ موڑ کر ان سے پینے کی ممانعت (اختناث الاسقیہ) کی اصل "صحیح" ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي.
📝 نوٹ / توضیح: ابو عامر العقدی سے مراد عبدالملک بن عمرو القیسی ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (3419) عن محمد بن بشار، عن أبي عامر العقدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (3419) میں محمد بن بشار کے طریق سے، انہوں نے ابو عامر العقدی (عبدالملک بن عمرو القیسی) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف النهي عن الشرب من في السقاء من حديث ابن عباس عند المصنف برقم (7391).
📖 حوالہ / مصدر: مشکیزے کے منہ سے پینے کی ممانعت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں مصنف کے ہاں سابقہ نمبر (7391) پر گزر چکی ہے۔
وصحَّ النهيُ عن اختناث الأسقية من حديث أبي سعيد الخدري عند البخاري (5625)، ومسلم (2023)، وانظر تتمة تخريجه في "مسند أحمد" 17/ (11026).
⚖️ درجۂ حدیث: مشکیزوں کے منہ موڑ کر پینے کی ممانعت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے "صحیح" ثابت ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت صحیح بخاری (5625) اور صحیح مسلم (2023) میں موجود ہے، اور اس کی مکمل تخریج "مسند احمد" 17/ (11026) میں ملاحظہ کریں۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اگلی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔
قوله: "اختناث الأسقية" فسّرها في حديث أبي سعيد عند البخاري بقوله: يعني أن تُكَسر أفواهها فيُشرَب منها.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "اختناث الاسقیہ" کا مطلب بخاری میں حضرت ابو سعید کی حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ: مشکیزوں یا برتنوں کے منہ کو باہر کی طرف موڑ یا توڑ دیا جائے اور پھر ان سے پانی پیا جائے۔