المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. إن الله جميل يحب الجمال
بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے
حدیث نمبر: 7551
أخبرني علي بن عبد الله الحَكِيمي (3) ببغداد، حدّثنا العباس بن الدُّوري، حدّثنا وهب بن جَرير، حدّثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق، قال: سمعتُ أبا الأحوص يُحدِّث عن أبيه قال: أتيتُ النبيّ ﷺ وأنا قَشِفُ الهيئة، قال:"هل لك من مال؟" قلتُ: نعم، قال:"مِن أيِّ المال؟" قلتُ: من كلِّ المال من الإبل والرّقيق والخيل والغَنَم، قال:"فإذا آتاك اللهُ مالًا فليُرَ عليك" ثم قال:"هل تُنتَجُ إبلُ قومِك صِحاحٌ آذانُها فتَعْمِدُ إلى الموسى فتقطعُ آذانها فتقول: هذه بَحِيرةٌ، وتشقُّها - أو تشقُّ جلودَها - وتقول: هذه صُرُمٌ، فتحرِّمُها عليك وعلى أهلك؟" قال: نعم، قال:"فإنَّ ما أعطاك الله لك حِلٌّ، موسى اللهِ أَحدُّ" وربما قال:"ساعدُ اللهِ أَشدُّ من ساعدك، وموسى اللهِ أحدُّ من مُوساك"، قلتُ: يا رسول الله، أرأيت رجلًا نزلتُ به فلم يُكرِمْني ولم يَقْرِنيّ، ثم نَزَلَ بي، أَجزِيهِ كما صنع، أو أقرِيهِ؟ قال:"أَقْرِهِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7364 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7364 - صحيح
سیدنا ابوالاحوص اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت میری حالت ناگفتہ بہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کس قسم کا مال ہے؟ میں نے کہا: اونٹ، گھوڑے، بھیڑ، بکریاں، غلام، خدام ہر طرح کا مال ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ تمہیں مال سے نوازے تو اس کا اثر تمہاری شخصیت پر نظر بھی آنا چاہیے۔ پھر فرمایا: تمہاری قوم میں صحیح سلامت کانوں والا اونٹ کا بچہ پیدا ہوتا ہے، اس کا مالک استرے کے ساتھ اس کے کان کاٹ ڈالتا ہے، اور کہتا ہے ” یہ بحیرہ ہے “۔ اور اس کی کھال چیر کر کہتا ہے ” یہ صرم ہے “ یہ کہہ کر ازخود اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر اس کو حرام قرار دے لیتا ہے، میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تجھے جو چیز عطا فرمائی ہے وہ تیرے لیے حلال ہے، اور اللہ کا استرا تیرے استرے سے زیادہ تیز ہے، اور اللہ تعالیٰ کی کلائی، تیری کلائی سے زیادہ مضبوط ہے، اور اللہ تعالیٰ کا استرا تیرے استرے سے زیادہ تیز ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے کہ میں کسی آدمی کا مہمان بنوں اور وہ نہ تو میری عزت کرے اور نہ میری مہمان نوازی کرے، ایسا شخص جب میرا مہمان بنے تو کیا میں اس کے سلوک کا اسی انداز میں بدلہ دے سکتا ہوں؟ یا میں اس کی مہمان نوازی کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی مہمان نوازی کرو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7551]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7551 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرّف في (ص) و (م) إلى: الحليمي.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الحلیمی" بن گیا ہے۔
(1) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعيّ، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك بن نضلة الجُشمي. وسلف برقم (65).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبد اللہ سبیعی" اور ابو الاحوص سے مراد "عوف بن مالک بن نضلہ جشمی" ہیں۔ یہ روایت نمبر (65) پر گزر چکی ہے۔