🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. غسل يوم الجمعة ومس الطيب فيه
جمعہ کے دن غسل کرنے اور خوشبو لگانے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7580
أخبرنا أبو بكر بن قُريش، حَدَّثَنَا الحسن بن سفيان، حَدَّثَنَا أبو الربيع الزَّهْراني، حَدَّثَنَا عبد الصمد بن عبد الوارث، حَدَّثَنَا همَّام، عن قَتَادة، عن مُطرِّف، عن عائشة: أنها صَنعَتْ (1) لرسول الله ﷺ جُبَّةً من صوفٍ سوداءَ، فلَبِسَها، فلما عَرِقَ وَجَدَ ريحَ الصُّوف فخَلَعها، وكان يُعجِبُه الرِّيحُ الطَّيِّب (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7393 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اون کا کالے رنگ کا جبہ بنایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہنا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ مبارک آیا تو آپ کو اون کی بدبو محسوس ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اتار دیا، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عمدہ خوشبو اچھی لگتی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7580]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7580 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (م): سعت.
📝 نوٹ / توضیح: (1) نسخہ (ص) اور (م) میں "سعت" ہے۔
(2) إسناده صحيح أبو الربيع الزهراني: هو سليمان بن داود العتكي، وهمام: هو ابن يحيى العَوذي، ومطرف هو ابن عبد الله بن الشِّخير.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو ربیع زہرانی سے مراد "سلیمان بن داود عتکی"، ہمام سے مراد "ابن یحییٰ عوذی"، اور مطرف سے مراد "ابن عبد اللہ بن شخیر" ہیں۔
وأخرجه أحمد 42/ (26117) عن عبد الصمد بن عبد الوارث، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد (42/ 26117) نے عبد الصمد بن عبد الوارث سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وأخرجه أحمد 41/ (25003) و 42/ (25117) و 43/ (25840)، وأبو داود (4074)، والنسائي (9488) و (9582)، وابن حبان (6395) من طرق عن همام بن يحيى، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (41/ 25003، 42/ 25117، 43/ 25840)، ابوداؤد (4074)، نسائی (9488، 9582) اور ابن حبان (6395) نے ہمام بن یحییٰ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وأخرجه النسائي (9583) من طريق هشام الدستوائي، عن قتادة، عن مطرف، فذكره عن النَّبِيّ ﷺ مرسلًا ليس فيه عائشة.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج نسائی (9583) نے ہشام دستوائی کے طریق سے، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے مطرف سے کی ہے، پس انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرسلاً ذکر کیا ہے، اس میں حضرت عائشہ کا ذکر نہیں ہے۔