🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. عن لبس المعصفر للرجل
مردوں کے لیے کسم (زرد/سرخ رنگ) سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7583
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا زيد بن الحُبَاب، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كان رسولُ الله ﷺ يَخطُبُ، فأقبل الحسنُ والحسينُ عليهما قميصان أحمران، فجعلا يَعثُرانِ ويقومانِ، فنزل فأخذَهما فوَضَعَهما بين يديه، قال:"صدق اللهُ ورسولُه: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [التغابن: 15] ، رأيتُ هذَينِ فلم أصبِرْ"، ثم أَخذ في خُطبتِه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7396 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: (وہ فرماتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما تشریف لائے، انہوں نے سرخ رنگ کا لباس زیب تن کیا ہوا تھا، یہ دونوں شہزادے، کبھی گرتے کبھی اٹھ جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف سے نیچے اترے اور دونوں شہزادوں کو اپنے سامنے بٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ فرمایا ہے کہ بے شک تمہارا مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں میں نے ان دونوں کو دیکھا تو مجھ سے رہا نہیں گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ خطبہ شروع فرما دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس بارے میں شافی بیان درج ذیل حدیث میں موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7583]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7583 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده قوي، رجاله لا بأس بهم.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند قوی ہے، اور اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)۔
وأخرجه أحمد 38/ (22995)، وأبو داود (1109)، وابن ماجه (3600)، وابن حبان (6038) من طريق زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (38/ 22995)، ابوداؤد (1109)، ابن ماجہ (3600) اور ابن حبان (6038) نے زید بن حباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1071).
📝 نوٹ / توضیح: اور جو نمبر (1071) پر گزر چکا ہے اسے ملاحظہ کریں۔