🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. إن الله لم ينزل داء إلا أنزل له شفاء
بے شک اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نازل نہ کی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7610
حدثنا أبو عليٍّ الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا إبراهيم بن مُسلم (3) بن رُشَيد إمامُ الجامع بالبصرة، حدثنا أبو أحمد محمد بن عبد الله بن الزُّبَير الزُّبيري، حدثنا خالد بن طَهْمان عن حُصين قال: كنتُ عند ابن عباس، فجاء سائلٌ فسألَ فقال له ابنُ عباس: أتشهدُ أن لا إله إلَّا الله؟ قال: نعم، قال: وتشهدُ أنَّ محمدًا رسول الله؟ قال: نعم، قال: وتُصلِّي الخَمس؟ قال: نعم، قال وتصومُ رمضان؟ قال: نعم، قال: أَمَا إِنَّ لك علينا حقًّا، يا غلامُ، اكْسُه ثوبًا، فإِنِّي سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن كَسَا مسلمًا ثوبًا، لم يَزَلْ في سَتْرِ الله ما دام عليه منه خَيطٌ أو سِلْكٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. آخر كتاب اللباس كتاب الطب (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7422 - خالد بن طهمان ضعيف
سیدنا حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں موجود تھا، ایک سائل آیا، اس نے کوئی سوال پوچھا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے پوچھا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم یہ بھی گواہی دیتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم پانچ وقت کی نماز پابندی سے ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم ماہ رمضان کے روزے رکھتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں: آپ نے فرمایا: بے شک تمہارا ہم پر حق ہے، اے لڑکے، اس کو لباس پہناؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا، جب تک اس کے جسم پر اس کپڑے کا ایک دھاگہ بھی رہے گا، اللہ تعالیٰ اس کے پہنانے والے کی پردہ پوشی کرتا رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7610]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7610 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا وقع في نسخنا الخطية، ومثله في "إتحاف المهرة" (7293)، وترجمه الخطيب في "تالي تلخيص المتشابه" 2/ 441، فسماه إبراهيم بن سلم، وقال المنذري في "الترغيب والترهيب" 2/ 323 بعد إخراجه لحديث: "من صلى عليَّ صلاة واحدة" عند الطبراني في" الصغير" و "الأوسط" في إبراهيم ابن سلم هذا: لا أعرفه بجرح ولا عدالة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں ایسا ہی ہے، اور "اتحاف المھرۃ" (7293) میں بھی ایسا ہی ہے۔ خطیب نے "تالی تلخیص المتشابہ" (2/ 441) میں اس کا ترجمہ کیا ہے اور نام "ابراہیم بن سلم" بتایا ہے۔ حافظ منذری نے "الترغیب والترہیب" (2/ 323) میں طبرانی (صغیر و اوسط) کی حدیث "جس نے مجھ پر ایک بار درود بھیجا..." روایت کرنے کے بعد اس ابراہیم بن سلم کے بارے میں فرمایا: "میں اس کی کوئی جرح یا تعدیل نہیں جانتا۔"
(1) إسناده ضعيف، إبراهيم بن مسلم أو سَلْم لم نتبين حاله كما ذكرنا، وخالد بن طهمان ضعيف، وبه أعلّه الذهبي في "التلحيص".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ ابراہیم بن مسلم (یا سلم) کا حال معلوم نہیں ہو سکا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، اور خالد بن طہمان ضعیف ہے۔ ذہبی نے "التلخیص" میں اسی وجہ سے اس پر جرح کی ہے۔
وأخرجه بنحوه الترمذي (2484) عن محمود بن غيلان، عن أبي أحمد الزبيري، بهذا الإسناد. بلفظ: "إلّا كان في حفظ الله ما دام منه عليه خِرقة". وقال: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2484) نے محمود بن غیلان سے، عن ابی احمد زبیری اسی سند کے ساتھ ان الفاظ میں روایت کیا ہے: "وہ اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے جب تک اس (کپڑے) کا کوئی ٹکڑا اس پر رہے۔" اور فرمایا: "حسن غریب ہے۔"
(1) سيأتي كتاب الطب مرة أخرى عند المصنف ابتداء من الحديث (8405)، وفيه الجديد من الأحاديث وفيه المكرر.
📝 نوٹ / توضیح: "کتاب الطب" مصنف کے ہاں دوبارہ حدیث نمبر (8405) سے شروع ہوگا، جس میں نئی احادیث بھی ہوں گی اور مکرر بھی۔