🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. عليكم بالبغيض النافع التلبينة .
تم اس ناپسندیدہ مگر فائدہ مند "تلبینہ" کو لازم کر لو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7643
وأخبرنا أبو عبد الله، حدثنا يحيى بن محمد [حدثنا مُسدَّد] (2) حدثنا المُعتمِر قال: سمعتُ أيمنَ المكّي يقول: حدثتني فاطمة بنتُ المنذر عن أُمِّ كُلثوم، عن عائشة، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"عليكم بالبَغيضِ النافع؛ التَّلبينةِ، والذي نفسُ محمدٍ بيده، إنه لَيَغسِلُ بطنَ أحدِكم كما يَغسِلُ الوسخَ عن وجهِه بالماء". قالت: وكان النبيُّ ﷺ إذا اشتكى أحدٌ من أهلِه، لم تَزَلِ البُرْمةُ على النار حتى يقضيَ على أحدِ طَرَفَيهِ؛ إما موتٌ أو حياةٌ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّ مسلم بمحمد بن السائب، واحتجَّ البخاري بأيمن بن نابل المكي، ثم لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7455 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس کھانے کو لازم پکڑو جو مریض کو اچھا نہیں لگتا لیکن اس کا نفع بہت ہے، وہ تلبینہ (یعنی حریرہ) ہے (تلبینہ، اس کھانے کو کہتے ہیں جو دودھ چھلنی میں باقی ماندہ بھوسہ اور شہد سے رقیق کھانا تیار کیا جاتا ہے) اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، وہ تمہارے پیٹ کو ایسے صاف کر دیتی ہے جیسے پانی تمہارے چہرے کی میل کو صاف کر دیتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ تھی کہ جب بھی آپ کے گھر والوں میں کسی کو درد وغیرہ ہوتا تو مسلسل ہنڈیا چولہے پر رہتی حتی کہ کوئی ایک فیصلہ ہو جاتا موت یا شفاء۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن سائب کی روایات نقل کی ہیں اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایمن بن نابل مکی کی روایات نقل کی ہیں لیکن دونوں نے، اس حدیث کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7643]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7643 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) سقط من النسخ الخطية، وهذه سلسلة قد خرّج المصنف بها في كتابه هذا بضعة عشر حديثًا، ويحيى بن محمد -وهو الذهلي- لم يدرك معتمر بن سليمان.
📌 اہم نکتہ: یہ حصہ قلمی نسخوں سے ساقط ہے، جبکہ مصنف نے اس سند (سلسلے) سے اس کتاب میں تقریباً دس سے زائد احادیث روایت کی ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن محمد (الذہلی) نے معتمر بن سلیمان کا ادراک نہیں کیا (یعنی ملاقات ثابت نہیں)۔
(3) إسناده ضعيف، فقد اختُلف فيه على أيمن بن نابل، فرواه عنه جمع عن فاطمة عن أم كلثوم، ورواه جمع آخر عنه بإسقاط فاطمة، وفاطمة هذه قد اختلف في نسبتها، فقيل: بنت أبي ليث، وقيل: بنت أبي عقرب، وهي مجهولة، وما وقع هنا عند المصنف وفيما سيأتي برقم (8449) من أنها بنت المنذر الزبيرية وهمٌ. وأم كلثوم -وهي بنت عمرو القرشية- مجهولة ايضا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی ایمن بن نابل سے اس میں اختلاف ہوا ہے؛ ایک گروہ نے اسے "فاطمہ عن ام کلثوم" کے واسطے سے روایت کیا جبکہ دوسرے گروہ نے فاطمہ کو ساقط کر دیا۔ فاطمہ کی نسبت میں بھی اختلاف ہے، کسی نے "بنت ابی لیث" اور کسی نے "بنت ابی عقرب" کہا، اور وہ "مجہول" ہیں۔ مصنف کے ہاں یہاں اور نمبر (8449) پر جو اسے "بنت المنذر الزبیریہ" کہا گیا ہے، وہ وہم ہے۔ ام کلثوم (بنت عمرو القرشیہ) بھی مجہول راویہ ہیں۔
وأخرجه النسائي (7531) عن محمد بن عبد الأعلى، عن المعتمر بن سليمان، عن أيمن بن نابل، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 43 / (26050) عن روح بن عبادة، والنسائي (7532) من طريق عثمان بن عبد الرحمن الطرائفي، كلاهما عن أيمن بن نابل به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (7531) میں محمد بن عبد الاعلیٰ کے طریق سے معتمر بن سلیمان سے اور انہوں نے ایمن بن نابل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد نے (26050) میں روح بن عبادہ کے طریق سے اور نسائی نے (7532) میں عثمان بن عبد الرحمن الطرائفی کے طریق سے اسے ایمن بن نابل سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (41/ 25066)، وابن ماجه (3446) من طريق وكيع، وأحمد 41/ (24500) و 42 / (25192) عن أبي أحمد الزبيري والنسائي (7530) من طريق عيسى بن يونس، ثلاثتهم عن أيمن بن نابل، عن أم كلثوم، عن عائشة. ليس فيه فاطمة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (25066)، ابن ماجہ نے (3446) وکیع کے طریق سے، امام احمد نے ہی (24500) اور (25192) میں ابو احمد الزبیری سے اور نسائی نے (7530) میں عیسیٰ بن یونس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان تینوں کی ایمن بن نابل سے روایت میں "فاطمہ" کا ذکر نہیں ہے، بلکہ براہِ راست "عن ام کلثوم عن عائشہ" ہے۔
وأخرج البخاري (5690) من طريق عروة بن الزبير، عن عائشة موقوفًا: أنها كانت تأمر بالتلبينة، وتقول: هو البغيض النافع.
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے (5690) میں عروہ بن زبیر کے طریق سے حضرت عائشہ سے "موقوفاً" روایت کیا ہے کہ وہ "تلبینہ" کھلانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں: "یہ ناپسندیدہ ہے لیکن فائدہ مند ہے"۔
والتلبينة: حساء رقيق يُعمَل من دقيق ونحوه، وربما جُعل فيه العسل.
📝 نوٹ / توضیح: "تلبینہ" ایک پتلا جوشاندہ یا دلیا ہے جو آٹے وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے اور بسا اوقات اس میں شہد بھی ملایا جاتا ہے۔