المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. عليكم بالإثمد فإنه ينبت الشعر ويجلو البصر .
تم اثمد سرمہ لازم کر لو کیونکہ یہ بال اگاتا ہے اور بینائی تیز کرتا ہے
حدیث نمبر: 7649
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسين بن مُكرَم، حدثنا العباس بن يزيد البَحْراني، حدثنا عبد الخالق بن أبي المُخارِق الأنصاري، حدثنا حبيب بن الشَّهيد، عن أنس بن سِيرين، عن أنس بن مالك قال: ذَكَرَ رسول الله ﷺ عِرقَ النَّسَا، فقال:"تُؤخذ أَلْيَةُ كبشٍ عربيٍّ وليست بالصغيرةِ ولا بالكبيرةِ، فتُذابُ فتشربُه ثلاثةَ أيام". قال أنس بن [سِيرين] (1) : لقد نعتُّه (2) لأكثرَ من ثلاث مئة كلُّهم يَبْرَءُون منه (3) . هذه الأسانيد كلها صحيحة على شرط الشيخين، وقد أعضَلَه حمّاد بن سَلَمة عن أنس بن سِيرِين، فقال: عن أخيه مَعبدَ، عن رجل من الأنصار، عن أبيه (4) ، والقولُ عندنا فيه قولُ المعتمِر بن سليمان والوليد بن مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7461 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7461 - صحيح
حبیب بن شہید نے سیدنا انس بن سیرین کے واسطے سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرق النساء کا تذکرہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عربی مینڈھے کی چکتی لو، جو نہ بہت زیادہ بڑی ہو، اور نہ زیادہ چھوٹی ہو، اس کو پگھلا لو، اور تین دن تک مریض کو پلاؤ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے یہ نسخہ 300 سے زائد مریضوں کو بتایا، اللہ کے حکم سے سب ٹھیک ہو گئے۔ ٭٭ یہ تمام اسانید امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ حماد بن سلمہ نے انس بن سیرین کے حوالے سے یہ حدیث معضلاً بیان کی ہے۔ یوں بیان کیا ” عن اخیہ معبد عن رجل من الانصار عن ابیہ “ اس سلسلے میں ہمارے نزدیک معتمر بن سلیمان اور ولید بن مسلم کا قول معتبر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7649]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7649 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في الأصول: ابن مالك، وأثبتناه على الجادة من بعض مصادر التخريج، ومن الرواية السالفة برقم (3191).
📌 اہم نکتہ: اصل نسخوں میں "ابن مالک" واقع ہوا تھا، لیکن ہم نے دیگر مصادرِ تخریج اور گزشتہ روایت نمبر (3191) کی روشنی میں معروف طریقے (الجادہ) کے مطابق اس کی تصحیح کی ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: ألعقه.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "ألعقه" ہو گیا تھا۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، وعبد الخالق بن أبي المخارق، روى عنه جمع كما قال البزار، وذكره ابن حبان في "الثقات"، لكن قد اختلف فيه على أنس بن سِيرِين كما فصلناه عند الرواية (3191).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عبد الخالق بن ابی المخارق سے ایک جماعت نے روایت کی ہے جیسا کہ امام بزار نے کہا، اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے، لیکن ان سے انس بن سیرین کے واسطے میں اختلاف ہوا ہے جس کی تفصیل روایت نمبر (3191) میں گزر چکی ہے۔
وأخرجه البزار في "مسنده" (6797)، والطبراني في "الأوسط" (2067)، والدارقطني في "العلل" ضمن السؤال (2340)، والسهمي في "تاريخ جرجان" 1/ 300، وأبو نعيم في "الطب النبوي" (494)، والخطيب في "تاريخ بغداد" 15/ 163، والضياء في "المختارة" 4/ (1556) من طرق عن العباس بن يزيد البحراني، بهذ الإسناد. وقال البزار: لا نعلم رواه عن حبيب بن الشهيد إلَّا عبد الخالق بن أبي المخارق، وعبد الخالق بصري مشهور، روى عنه عمرو بن عاصم الكلابي وعثمان بن طالوت وحفص بن محبوب وغيرهم، ولا روى عن حبيب عن أنس بن سِيرِين عن أنس إلَّا هذا الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار نے "مسند" (6797)، طبرانی نے "الاوسط" (2067)، دارقطنی نے "العلل" (2340)، سہمی نے "تاریخ جرجان" 1/ 300، ابو نعیم نے "الطب النبوی" (494)، خطیب نے "تاریخ بغداد" 15/ 163 اور ضیاء مقدسی نے "المختارہ" 4/ (1556) میں عباس بن یزید البحرانی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق اسے حبیب بن الشہید سے صرف عبد الخالق بن ابی المخارق نے روایت کیا ہے، جو کہ مشہور بصری راوی ہیں اور ان سے عمرو بن عاصم الکلابی اور عثمان بن طالوت وغیرہ نے روایت کی ہے، نیز حبیب عن انس بن سیرین عن انس کے طریق سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
(4) تقدم تخريج هذه الطريق عند الرواية السالفة برقم (3191).
🧾 تفصیلِ روایت: اس طریق کی تخریج گزشتہ روایت نمبر (3191) کے تحت گزر چکی ہے۔