🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. من احتجم لسبع عشرة كان له شفاء .
جس نے سترہ تاریخ کو حجامہ کروایا، اس کے لیے اس میں شفا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7665
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا أبو تَوْبة الربيع بن نافع، حدثنا سعيد بن عبد الرحمن الجُمَحي، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"من احتَجَم لسبعَ عشرةَ من الشهر، كان له شِفاءً من كل داءٍ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7475 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو 17 تاریخ کو پچھنے لگائے گا، اس کو ہر بیماری سے شفاء مل جائے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7665]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7665 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف من أجل سعيد بن عبد الرحمن الجمحي، وضعفه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 17/ 449 مع جملة أحاديث في التوقيت. لكن قد صحَّ من فعله ﷺ كما سيأتي قريبًا من حديث أنس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سعید بن عبد الرحمن الجمحی کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" 17/ 449 میں اوقاتِ حجامہ کے متعلق دیگر احادیث کے ساتھ اسے بھی ضعیف کہا ہے۔ البتہ نبی ﷺ کے فعل سے یہ بات ثابت ہے جیسا کہ آگے حضرت انس کی حدیث میں آئے گا۔
وقال العقيلي في "الضعفاء" 1/ 338: وليس في الاختيار في الحجامة والكراهية شيء يثبت.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام عقیلی "الضعفاء" 1/ 338 میں فرماتے ہیں کہ حجامہ کے لیے (خاص دنوں کے) انتخاب یا کراہت کے بارے میں کوئی چیز (حدیث) ثابت نہیں ہے۔
وأخرجه أبو داود (3861) عن أبي توبة الربيع بن نافع بهذا الإسناد. وزاد فيه وتسع عشرة وإحدى وعشرين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود نے (3861) میں ابو توبہ الربیع بن نافع کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور اس میں "انیسویں اور اکیسویں" تاریخ کا اضافہ کیا ہے۔