🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. الدعاء عند عيادة المريض وأدبها .
بیمار پرسی کے وقت کی دعا اور اس کے آداب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7679
فأخبرَناه عبد الرحمن بن الحسن (4) القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله أحمد بن بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر عن شُعبة، عن يزيد (5) أبي خالد الدَّالَاني قال: سمعتُ المِنهال بن عمرو يحدِّث عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النبيِّ ﷺ قال:"ما من عبدٍ مُسلمٍ يعودُ مريضًا لم يَحضُرُ أجلُه، فيقولُ سبعَ مرات: أسألُ الله العظيمَ، ربَّ العرش العظيم، أن يَشفِيَك، إلَّا عُوفي" (1) . وأما حديث مَيسَرة بن حَبيب:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے، تو وہ اس کے پاس بیٹھ کر سات مرتبہ یہ دعا پڑھ دے۔ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ، سَبْعًا اگر اس کی موت نہ آئی ہوئی ہو گی تو اس کو شفاء مل جائے گی۔ میسرہ بن حبیب کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7679]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7679 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) أُقحم هنا في النسخ لفظ "بن"، وهو خطأ.
📌 اہم نکتہ: یہاں نسخوں میں لفظ "بن" غلطی سے زیادہ لکھا گیا ہے۔
(1) إسناده جيد من أجل المنهال بن عمرو ويزيد الدالاني، وسلف برقم (1284) من طريق آدم ابن أبي إياس عن شعبة. وهو في "مسند أحمد" 4 / (2137).
⚖️ درجۂ حدیث: منہال بن عمرو اور یزید الدالانی کی وجہ سے اس کی سند "جید" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت پیچھے نمبر (1284) پر گزری ہے اور "مسند احمد" 4 / (2137) میں بھی موجود ہے۔
وأخرجه الترمذي (2083)، والنسائي (10820) من طريق محمد بن جعفر وحده، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (2083) اور امام نسائی (10820) نے تنہا محمد بن جعفر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حسن غريب.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث "حسن غریب" ہے۔
(4) تحرف في النسخ الخطية إلى: الحسين.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الحسین" ہو گیا ہے۔