المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. إن الله - تعالى - لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم
بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جو تم پر حرام کی ہیں
حدیث نمبر: 7699
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن شقيق قال: اشتكى رجلٌ بطنَه من الصَّفَر، فنُعِتَ له السَّكَرُ، فذكر ذلك لعبد الله، فقال: إِنَّ الله لم يَجْعَلْ شَفاءَكم فيما حَرَّم عليكم (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7509 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7509 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا شفیق فرماتے ہیں: ایک آدمی کو صفراء کی وجہ سے پیٹ کی بیماری لاحق ہو گئی۔ اس کے لئے شراب تجویز کی گئی۔ اس بات کا تذکرہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حرام چیز میں تمہارے لیے شفاء نہیں رکھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7699]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7699 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) خبر صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، والأعمش وإن لم يصرح بسماعه من شقيق -وهو ابن سلمة- قد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر (حدیث) "صحیح" ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام اعمش نے اگرچہ شقیق (ابن سلمہ) سے سماع کی صراحت نہیں کی، مگر ان کی متابعت موجود ہے (جس سے تدلیس کا خدشہ ختم ہو گیا)۔
وأخرجه عبد الرزاق (17098)، وأحمد في "الأشربة" (117)، والبيهقي 10/ 5 من طرق عن الأعمش، بهذا الإسناد. لكن زاد في رواية البيهقي بين الأعمش وشقيق: حبيبَ بن حسان! وحبيبٌ ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق (17098)، امام احمد (الاشربہ 117) اور بیہقی (10/ 5) نے اعمش کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بیہقی کی روایت میں اعمش اور شقیق کے درمیان "حبیب بن حسان" کا اضافہ ہے، جو کہ ایک ضعیف راوی ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق (17097)، وابن أبي شيبة 8/ 23 و 130، وأحمد في "الأشربة" (130)، والطبراني في "الكبير" (9714) و (9716)، وابن عبد البر في "التمهيد" 24/ 200 من طريق منصور بن المعتمر، وابن أبي شيبة 8/ 130، والطحاوي في شرح المعاني 1/ 108، والطبراني (9716) من طريق عاصم بن بهدلة، كلاهما عن شقيق بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے منصور بن المعتمر اور عاصم بن بہدلہ کے طرق سے شقیق بن سلمہ سے مروی ہو کر عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، امام احمد، طبرانی، ابن عبد البر اور امام طحاوی نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 8/ 130 من طريق مسروق، عن عبد الله بن مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (8/ 130) نے مسروق کے واسطے سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
وعلّقه البخاري في "صحيحه" بلا إسناد بين يدي الحديث (5614).
📖 حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اسے اپنی "صحیح" میں حدیث نمبر (5614) سے پہلے بغیر سند کے (معلقاً) ذکر کیا ہے۔
وفي الباب عن أم سلمة مرفوعًا عند ابن حبان (1391)، وفي إسناده لين.
🧩 متابعات و شواہد: اسی باب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ابن حبان (1391) میں مرفوعاً مروی ہے، مگر اس کی سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے۔
وأخرج مسلم (1984) وغيره: أنَّ طارق بن سويد سأل النبي ﷺ عن الخمر فنهاه- أو كره- أن يصنعها، فقال: إنما أصنعها للدواء، فقال: "إنه ليس بدواء، ولكنه داء".
📖 حوالہ / مصدر: صحیح مسلم (1984) میں مروی ہے کہ طارق بن سوید نے نبی ﷺ سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے منع فرمایا اور فرمایا: "یہ دوا نہیں بلکہ بیماری (داء) ہے"۔
وانظر ما سيأتي عند المصنف برقم (8465). والصَّفَر، بالتحريك: هو اجتماع الماء في البطن كما يعرض للمستسقي، وهو أيضًا دودٌ يقع في الكبد وشراسيف الأضلاع. انظر "النهاية" لابن الأثير.
📝 نوٹ / توضیح: مصنف کے ہاں رقم (8465) ملاحظہ فرمائیں۔ "الصَّفَر" (زبر کے ساتھ) سے مراد پیٹ میں پانی بھر جانا (استسقاء) ہے، یا وہ کیڑے جو جگر اور پسلیوں میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ (النهایہ لابن الاثیر)