المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. الغلام مرتهن بعقيقته .
بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی ہوتا ہے
حدیث نمبر: 7777
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي وإسحاق بن الحسن (1) الحَرْبي، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا يحيى ابن زُرَارة بن كَريم السَّهْمي، حدثني أبي، عن جدِّه الحارث بن عمرو السَّهْمي قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: استغفِرْ لي، فقال:"غَفَرَ اللهُ لكم". قلتُ له ذلك مرةً أو مرتين، فقال رجلٌ: يا رسولَ الله، ما تَرَى في العَتائرِ والفَرائع؟ فقال رسول الله ﷺ:"مَن شَاء عَتَرَ ومَن شاء لم يَعتِرْ، ومَن شاء فَرَّعَ ومَن شاء لم يُفرِّعْ، وفي الشاة أُضحيَّتُها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ الحارث بن عمرو السَّهمي صحابي مشهور، وولدُه بالبصرة مشهورون. وقد حدَّث عبد الرحمن بن مَهدي وسَلْم بن قُتيبة وغيرهم عن يحيى بن زُرَارة، وقد اتفق الشيخانِ ﵄ على الزُّهْري (3) عن سعيد بن المسيّب عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا فَرَعَ ولا عَتِيرةَ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7586 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ الحارث بن عمرو السَّهمي صحابي مشهور، وولدُه بالبصرة مشهورون. وقد حدَّث عبد الرحمن بن مَهدي وسَلْم بن قُتيبة وغيرهم عن يحيى بن زُرَارة، وقد اتفق الشيخانِ ﵄ على الزُّهْري (3) عن سعيد بن المسيّب عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا فَرَعَ ولا عَتِيرةَ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7586 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے مغفرت کی دعا فرما دی۔ میں نے ایک یا دو مرتبہ مزید حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی دعا کروائی، اسی اثناء میں ایک شخص بولا، کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عتیرہ اور فرع کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے، عتیرہ ذبح کر لے اور جو چاہے، نہ کرے، جو چاہے، فرع ذبح کر لے اور جو چاہے نہ کرے اور بکری میں تمہاری قربانی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، ان کی اولادیں بصرہ میں مشہور ہیں۔ اور عبدالرحمن بن مہدی بن قتیبہ اور دیگر محدثین نے یحیی بن زرارہ سے حدیث روایت کی ہے۔ جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سعید زہری کے واسطے سے سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: نہ کوئی فرع ہے اور نہ کوئی عتیرہ (اس حکم سے فرع اور عتیرہ کے احکام منسوخ ہو گئے۔) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7777]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7777 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرف في النسخ الخطية إلى: الحسين.
📝 نوٹ / توضیح: خطی نسخوں میں یہ لفظ تحریف (Scribal error) کا شکار ہو کر "الحسین" ہو گیا ہے (جبکہ اصل غالباً الحسن ہے)۔
(2) إسناده حسن، يحيى بن زرارة بن كريم روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع، وأبوه زرارة روى عنه جمع أيضًا، وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن زرارہ بن کریم سے راویوں کی ایک جماعت نے روایت کی ہے اور امام ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے، نیز ان کی متابعت (Corroboration) بھی موجود ہے۔ ان کے والد زرارہ سے بھی ایک جماعت نے روایت کی ہے اور وہ بھی ابن حبان کی "الثقات" میں مذکور ہیں۔
وأخرجه أحمد 25/ (15972)، والنسائي (4539) من طريق عفان بن مسلم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 25/ (15972) اور امام نسائی (4539) نے عفان بن مسلم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (4538) من طريق عبد الله بن المبارك، و (10181) من طريق المعتمر بن سليمان، كلاهما عن يحيى بن زرارة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے حدیث نمبر (4538) میں عبد اللہ بن المبارک کے طریق سے، اور حدیث نمبر (10181) میں معتمر بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں یحییٰ بن زرارہ سے اور وہ اسی سند سے اسے نقل کرتے ہیں۔
وسلف برقم (7758) من طريق عتبة بن عبد الملك السهمي عن زرارة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت اس سے پہلے حدیث نمبر (7758) کے تحت عتبہ بن عبد الملک السہمی کے طریق سے مروی ہو چکی ہے جو انہوں نے زرارہ سے نقل کی ہے۔
(3) وقع في (ز): سعيد الزهري!
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں "سعيد الزهري" لکھا ہوا ہے (جو کہ سہوِ کاتب معلوم ہوتا ہے)۔
(1) أخرجه البخاري (5473) ومسلم (1976) من طريق معمر، والبخاري (5474) ومسلم (1976) من طريق سفيان بن عيينة، كلاهما عن الزهري، عن ابن المسيب، عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (5473) اور امام مسلم (1976) نے معمر بن راشد کے طریق سے، اور امام بخاری (5474) و امام مسلم (1976) ہی نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں (معمر اور سفیان) زہری سے، وہ سعید بن مسیب سے اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔