🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. إن حسن الظن بالله من عبادة الله .
اللہ کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا اللہ کی عبادت کا حصہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7796
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز البَغَوي وأبو مسلم، قالا: حدثنا حجَّاجُ بن مِنْهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، محمد بن واسع، عن شُتَير بن نَهَار، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال:"إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بالله تعالى من حُسْن عبادةِ الله" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7604 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا اللہ کی بہترین عبادت میں سے ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7796]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لتفرد شتير بن نهار» [ترقيم الرساله 7796] [ترقيم الشركة 7703] [ترقيم العلميه 7604]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7796 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف لتفرد شتير بن نهار - ويقال: سُمير - به، وقد روى عنه اثنان، ووثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وجهّله الدارقطني والذهبي، وقد خولف في لفظه، والمحفوظ عن أبي هريرة غير هذا اللفظ كما سيأتي. وأخرجه أحمد 13/ (7956) و (8036) و 15/ (9280) و 16/ (10364)، وأبو داود (4993)، وابن حبان (631) من طرق عن حمّاد بن سلمة، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ شتیر بن نہار (جنہیں سمیر بھی کہا جاتا ہے) کا اس روایت میں منفرد ہونا ہے۔ اگرچہ عجلی نے ان کی توثیق کی اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا، مگر امام دارقطنی اور امام ذہبی نے انہیں "مجحول" (ناواقف) قرار دیا ہے۔ نیز اس کے الفاظ میں بھی اختلاف کیا گیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت (محفوظ) الفاظ اس کے علاوہ ہیں جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابوداؤد (4993) اور ابن حبان (631) نے حماد بن سلمہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق صدقة بن موسى عن محمد بن واسع برقم (1/ 7849) ويأتي تخريجها هناك. والمحفوظ عن أبي هريرة ما رواه عنه الأعرج بلفظ: "قال الله: أنا عند ظن عبدي بي" أخرجه البخاري (7505)، ورواه عن أبي هريرة أيضًا كلٌّ من أبي صالح السمان عند البخاري (7405)، ومسلم (2675) (1) و (2) و (21)، ويزيد بن الأصم عند مسلم (2675) (19)، وعبد الرحمن ابن أبي عمرة عند أحمد 16/ (10253).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت صدقہ بن موسیٰ کے طریق سے محمد بن واسع سے آگے نمبر (1/ 7849) پر آئے گی جہاں اس کی تخریج موجود ہوگی۔ 📌 اہم نکتہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے محفوظ روایت وہ ہے جسے امام اعرج نے ان الفاظ میں روایت کیا: "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جیسا وہ میرے بارے میں رکھتا ہے"۔ اسے امام بخاری (7505) نے روایت کیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابو صالح السمان (بخاری و مسلم)، یزید بن الاصم (مسلم) اور عبد الرحمن بن ابی عمرہ (احمد) نے بھی روایت کر رکھا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7796 in Urdu