المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. الله أشد فرحا بتوبة عبده من الرجل براحلته .
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی گمشدہ سواری مل جائے
حدیث نمبر: 7802
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبَّار، حدثنا النَّضر بن شُميل بن خَرَشَة بن يزيد، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك بن حرب، عن النُّعمان بن بَشير أنَّه سمعه يقول: قال رسول الله ﷺ:"ما يسافرُ رجلٌ في أرضٍ تَنُوفةٍ فقال تحتَ شجرة، ومعه راحلتُه عليها زادُه وطعامُه، فاستيقظ وقد أفلتَتْ راحلتُه، فعَلَا شَرَفًا فلم يَرَ شيئًا، ثم عَلَا شَرَفًا فلم يَرَ شيئًا، فالتَفَتَ فإذا هو بها تَجُرُّ خِطامَها، فما هو أشدَّ فَرَحًا بها من الله بتوبةِ عبدِه إذا تابَ إليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث البراء بن عازب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7610 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث البراء بن عازب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7610 - على شرط مسلم
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی بندہ بے آب جنگل میں سفر کرتا ہے، وہ ایک درخت کے نیچے آرام کرنے کے لیے سوتا ہے، اس کے ہمراہ اس کی سواری اور کھانا پینا بھی ہوتا ہے، لیکن جب وہ سو کر بیدار ہوتا ہے تو اس کی سواری بھاگ چکی ہوتی ہے، وہ اس کے ڈھونڈنے کے لیے کبھی بلندی پر چڑھتا ہے لیکن اس کو کچھ دکھائی نہیں دیتا، پھر دوسری بلندی پر چڑھتا ہے لیکن اس کو وہاں پر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا، پھر اچانک اس کی نظر پڑتی ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اپنی لگام گھسیٹتی ہوئی آ رہی ہوتی ہے، اس وقت اس کو جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ کم ہوتی ہے، لیکن بندہ جب اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7802]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7802 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد لا بأس برجاله، لكن قد اختلف في رفعه ووقفه على حمّاد بن سلمة وعلى شيخه سماك بن حرب، والراجح وقفه.
⚖️ درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے راویوں میں بذاتِ خود کوئی حرج نہیں ہے، تاہم حماد بن سلمہ اور ان کے استاد سماک بن حرب پر اس روایت کے "مرفوع" (نبی ﷺ کے قول کے طور پر) اور "موقوف" (صحابی کے قول کے طور پر) ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اور درست بات یہ ہے کہ یہ "موقوف" ہی ہے۔
فقد رواه النضر بن شميل عن حماد فرفعه، ورواه بهز بن أسد فقال: قال حماد: أظنه عن النبي ﷺ، ورواه حسن بن موسى الأشيب وأبو داود الطيالسي وموسى بن داود الضبي ثلاثتهم عن حماد بن سلمة موقوفًا.
🧾 تفصیلِ روایت: نضر بن شمیل نے اسے حماد بن سلمہ سے "مرفوعاً" روایت کیا ہے، جبکہ بہز بن اسد کی روایت میں حماد کہتے ہیں کہ "میرا گمان ہے کہ یہ نبی ﷺ سے مروی ہے"۔ اس کے برعکس حسن بن موسیٰ الاشیب، ابو داود طیالسی اور موسیٰ بن داود الضبی، ان تینوں نے حماد بن سلمہ سے اسے "موقوفاً" (صحابی کے قول کے طور پر) روایت کیا ہے۔
وأما سماك بن حرب فرواه عنه أبو الأحوص وحاتم بن أبي صغيرة موقوفًا، وخالفهما شريكُ ابن عبد الله النخعي، فرواه عن سماك مرفوعًا، وشريك سيئ الحفظ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: جہاں تک سماک بن حرب کا تعلق ہے، تو ان سے ابو الاحوص (سلام بن سلیم) اور حاتم بن ابی صغیرہ نے "موقوفاً" روایت کیا ہے، جبکہ شریک بن عبداللہ النخعی نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے اسے سماک سے "مرفوعاً" نقل کیا ہے، اور شریک کا حافظہ کمزور (سیئ الحفظ) تھا۔
وأخرجه الدارمي (2894)، والبزار في "مسنده" (2770) عن النضر بن شميل بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام دارمی (حدیث نمبر 2894) اور بزار نے اپنی "مسند" (حدیث نمبر 2770) میں نضر بن شمیل کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
قال البزار عقبه: هذا الحديث لا نعلم أحدًا أسنده عن حمّاد بن سلمة عن سماك عن النعمان عن النبي ﷺ، إلّا النضر بن شميل، ويرويه غيره موقوفًا، ورواه شريك عن سماك عن النعمان عن النبي ﷺ.
📝 نوٹ / توضیح: امام بزار نے اس حدیث کے بعد فرمایا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ نضر بن شمیل کے علاوہ کسی اور نے حماد بن سلمہ از سماک بن حرب از نعمان بن بشیر کے واسطے سے اسے نبی ﷺ تک "مسند" (مرفوع) کیا ہو، کیونکہ دوسرے اسے "موقوف" روایت کرتے ہیں۔ البتہ شریک نے اسے سماک سے مرفوعاً ہی بیان کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18408) عن بهز بن أسد عن حماد بن سلمة به. قال بهز: قال حماد: أظنه عن النبي ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد نے "المسند" (جلد 30، حدیث نمبر 18408) میں بہز بن اسد کے واسطے سے حماد بن سلمہ سے اسے روایت کیا ہے۔ بہز کہتے ہیں کہ حماد نے فرمایا: "میرا خیال ہے کہ یہ نبی ﷺ سے مروی ہے"۔
وأخرجه أبو داود الطيالسي في "مسنده" (831)، وأخرجه أحمد (18408) عن حسن الأشيب، وإبراهيم الحربي في "غريب الحديث" 3/ 942 عن موسى بن داود الضبي، ثلاثتهم (أبو داود وحسن وموسي) عن حماد، به موقوفًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود طیالسی نے اپنی "مسند" (حدیث نمبر 831)، امام احمد نے (حدیث نمبر 18408) حسن بن موسیٰ الاشیب کے واسطے سے، اور ابراہیم حربی نے "غریب الحدیث" (جلد 3، صفحہ 942) میں موسیٰ بن داود الضبی کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں (ابو داود، حسن اور موسیٰ) حماد سے اسے "موقوفاً" نقل کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد (18423) عن أحمد بن عبد الملك الحراني، عن شريك النخعي، عن سماك. مرفوعًا. وأخرجه هناد في "الزهد" (889) عن أبي الأحوص سلام بن سليم، ومسلم (2745) من طريق أبي يونس حاتم بن أبي صغيرة، كلاهما عن سماك، به موقوفًا. زاد مسلم في روايته: قال سماك: فزعم الشعبي أنَّ النعمان رفع هذا الحديث إلى النبي ﷺ، وأما أنا فلم أسمعه. وخالفهما شريكٌ النخعي فرواه عن سماك به مرفوعًا، أخرجه أحمد (18423)، وشريك سيئ الحفظ.
🧾 تفصیلِ روایت: امام احمد نے (حدیث نمبر 18423) میں اسے شریک النخعی کے واسطے سے "مرفوعاً" روایت کیا ہے۔ جبکہ ہناد بن السری نے "الزہد" (حدیث نمبر 889) میں ابو الاحوص سلام بن سلیم سے، اور امام مسلم نے (حدیث نمبر 2745) میں حاتم بن ابی صغیرہ کے واسطے سے سماک سے اسے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔ امام مسلم کی روایت میں اضافہ ہے کہ سماک نے کہا: "عامر شعبی کا خیال ہے کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو نبی ﷺ تک مرفوع کیا تھا، لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں نے اسے (مرفوعاً) نہیں سنا"۔ ان کے برخلاف شریک النخعی نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے، لیکن وہ حافظے کی کمزوری (سیئ الحفظ) کی بنا پر معتبر نہیں۔