المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. ذكر فضيلة الاستغفار .
استغفار کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7870
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حَدَّثَنَا علي بن الحسين بن الجُنَيد حَدَّثَنَا صفوان بن صالح، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، حدثني الحَكَم بن مُصعَب، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عباس، عن أبيه، عن جدِّه، عن النَّبِيِّ ﷺ قال:"مَن أكثرَ الاستغفار، جعلَ الله له من كلِّ همٍّ فَرَجًا، ومن كلِّ ضِيقٍ مَخْرجًا، ورَزَقَه من حيثُ لا يَحتسبُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7677 - الحكم بن مصعب فيه جهالة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7677 - الحكم بن مصعب فيه جهالة
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ عطا فرما دیتا ہے، ہر تنگی سے اس کو نکال لیتا ہے، اور اس کو ایسے مقام سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التوبة والإنابة/حدیث: 7870]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7870 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، الحكم بن مصعب مجهول، تفرَّد بالرواية عنه الوليد بن مسلم، وذكره ابن حبان في "المجروحين" 1/ 249 وقال: ينفرد بالأشياء التي لا ينكر نفيَ صحتها من عُنى بهذا الشأن، لا يحلّ الاحتجاج به، ولا الرواية عنه إلّا على سبيل الاعتبار. ومع ذلك ذكره في "الثقات"، وقال: يخطئ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی حکم بن مصعب "مجہول" ہے، اس سے روایت کرنے میں ولید بن مسلم منفرد ہے۔ ابن حبان نے اسے "المجروحین" (1/ 249) میں ذکر کر کے کہا ہے کہ یہ ایسی اشیاء بیان کرنے میں منفرد ہے جن کی صحت کی نفی اہل فن (ماہرینِ حدیث) کے نزدیک منکر نہیں ہے؛ اس سے احتجاج (دلیل پکڑنا) جائز نہیں اور اس کی روایت صرف "اعتبار" (تائید) کے لیے لکھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ابن حبان نے اسے "الثقات" میں بھی ذکر کیا ہے مگر وہاں بھی اسے "خطا کار" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد (4/ 2234)، وأبو داود (1518)، وابن ماجه (3819)، والنسائي (10217) من طرق عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد. إلّا رواية ابن ماجه فلم يُذكَر فيها علي بن عبد الله بن عباس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/ 2234)، ابوداؤد (1518)، ابن ماجہ (3819) اور نسائی (10217) نے ولید بن مسلم کے مختلف طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، البتہ ابن ماجہ کی روایت میں علی بن عبد اللہ بن عباس کا ذکر موجود نہیں ہے۔