المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. قال النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - : تسموا باسمي ، ولا تكتنوا بكنيتي
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو مگر میری کنیت اختیار نہ کرو
حدیث نمبر: 7928
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثنا شُعبة، عن قَتَادة ومنصور وسليمان وحُصَين بن عبد الرحمن، قالوا سمعنا سالمَ بن أبي الجَعْد يحدِّث عن جابر بن عبد الله قال: وُلِدَ للأنصار ولدٌ فأرادوا أن يسمُّوه محمدًا، فأتَوا به رسولَ الله ﷺ، فقال:"أحسنَتِ الأنصارُ، تَسمَّوا باسمي ولا تَكْتَنُوا بكُنْيتي، فإنما بُعِثتُ قاسِمًا أَقسِمُ بينكم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وقد اتَّفقا فيه على حديث جَرير عن منصور بغير هذه السِّياقة. وقد جمع بِشرُ بن عمر الزَّهراني وأبو الوليد الطَّيالسي عن شُعبة بين الأربعة كما جمع بينهم النَّضرُ بن شُمَيل:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين وقد اتَّفقا فيه على حديث جَرير عن منصور بغير هذه السِّياقة. وقد جمع بِشرُ بن عمر الزَّهراني وأبو الوليد الطَّيالسي عن شُعبة بين الأربعة كما جمع بينهم النَّضرُ بن شُمَيل:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: انصار کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا، ان لوگوں کا ارادہ تھا کہ اس بچے کا نام ” محمد “ رکھیں، وہ لوگ اس بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار نے بہت اچھا کیا۔ تم میرے نام پر نام تو رکھ لیا کرو، لیکن میری کنیت پر کوئی کنیت نہ رکھے۔ کیونکہ تقسیم کرنے والا صرف مجھے بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اور میں ہی تمہارے درمیان (رزق اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں) تقسیم کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے جریر کی منصور کے واسطے سے روایت کردہ حدیث نقل کی ہے، اس کی اسناد اور ہے۔ بشر بن عمر زہرانی اور ابوالولید الطیالسی نے شعبہ سے روایت کرنے میں سلیمان، حصین، منصور اور قتادہ چاروں کو جمع کیا ہے جیسا کہ نضر بن شمیل نے چاروں کو جمع کیا ہے، جیسا کہ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7928]