المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. من طلق ما يملك فلا طلاق له
جس چیز کا انسان مالک نہ ہو، اس کی دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 8015
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن عبد الأعلى، عن جدَّته، عن أبيها سُوَيد بن حَنْظلة، قال: خرَجْنا نريدُ رسولَ الله ﷺ ومعنا وائل بن حُجْر، فأخذه عدوٌّ له، فتحرَّجَ القومُ أن يَحلِفوا وحلفتُ أنه أخي، فخُلِّي سبيلُه، فأتينا رسولَ الله ﷺ فأخبرتُه أنَّ القومَ تحرَّجوا وحلفتُ أنا أنَّه أخي، فقال:"صدقتَ، المُسلِمُ أخو المُسلِم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7821 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7821 - صحيح
سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے نکلے، ہمارے ہمراہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کو ان کے دشمن نے پکر لیا، لوگ قسم کھانے سے گبھرا رہے تھے، لیکن میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے، اس طرح قسم کھا کر میں نے ان کو ان سے چھڑا لیا، پھر ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے، اور اس واقعہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ باقی لوگ ان کے بارے میں قسم کھانے سے گریزاں تھے البتہ میں نے قسم کھا لی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچی قسم کھائی ہے، کیونکہ مسلمان واقعی مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8015]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8015 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المرفوع منه صحيح لغيره، وهو قوله: "المسلم أخو المسلم"، وهذا إسناد فيه جهالة من قبل جدِّه إبراهيم وأبيها، ولا يعرفان إلّا في هذا الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا مرفوع حصہ یعنی یہ قول کہ "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے" صحیح لغیرہ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں راویہ کے دادا ابراہیم اور ان کے والد دونوں کی حالت نامعلوم (جہالت) ہے، یہ دونوں صرف اسی حدیث میں پہچانے جاتے ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2119) عن أبي بكر بن أبي شيبة، عن عبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (2119) میں ابو بکر بن ابی شیبہ کے طریق سے عبید اللہ بن موسیٰ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 27/ (16726) و (16727)، وأبو داود (3256)، وابن ماجه (2119) من طرق عن إسرائيل بن يونس، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (27/ 16726 اور 16727)، ابو داؤد (3256) اور ابن ماجہ (2119) نے اسرائیل بن یونس کے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد للمرفوع منه حديث ابن عمر عند البخاري (2442)، ومسلم (2580).
🧩 متابعات و شواہد: اس کے مرفوع حصے کی تائید حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو صحیح بخاری (2442) اور صحیح مسلم (2580) میں موجود ہے۔