🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. إذا شق إيفاء النذر على رجل فليكفر عن يمينه
اگر کسی شخص کے لیے نذر پوری کرنا مشکل ہو جائے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8022
وقد أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن أبي هريرة، أنَّ سول الله ﷺ قال:"إذا استَلَجَّ أحدُكم باليمين في أهلِه، فإنَّه آثَمُ عند الله من الكفَّارة التي أُمِرَ بها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7828 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص قسم کھائے، پھر اس کے خلاف میں بھلائی پائے، اس کے باوجود قسم توڑ کر کفارہ نہ دے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گناہ گار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8022]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8022 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وهو في "مسند أحمد" 13 / (7743) و (8208).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (7743 اور 8208) میں موجود ہے۔
وأخرجه البخاري (6625) عن إسحاق بن راهويه، ومسلم (1655) عن محمد بن رافع، كلاهما عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام بخاری (6625) نے اسحاق بن راہویہ کے واسطے سے اور امام مسلم (1655) نے محمد بن رافع کے واسطے سے کی ہے، دونوں نے اسے عبد الرزاق (عبد الرزاق بن ہمام الصنعانی) کی اسی سند سے نقل کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام حاکم کا اس حدیث پر "استدراک" کرنا ان کا ذہنی سہو (غفلت) ہے کیونکہ یہ پہلے ہی صحیحین میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2114) من طريق محمد بن حميد المعمري، عن معمر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابن ماجہ (2114) نے محمد بن حمید المعمری کے طریق سے معمر کے واسطے سے کی ہے۔
وانظر ما قبله.
📌 اہم نکتہ: اس سے ماقبل کی روایت بھی ملاحظہ کریں۔