المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. أعلام النور فى الصدور
سینوں میں نور کی علامتوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8061
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن العوَّام بن جُوَيرية، عن الحسن، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"أربعٌ لا يُصَبْنَ إِلَّا بِعَجَب: الصَّمتُ، وهو أولُ العِبادة، والتواضعُ، وذكر الله، وقِلَّةُ الشيء" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں پسندیدہ ہیں۔ ٭ خاموشی، یہ سب سے پہلی عبادت ہے۔ ٭ عاجزی۔ ٭ اللہ تعالیٰ کی یاد۔ ٭ اشیاء کی قلت۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بہت سارا گوشت اور ثرید کھا لیا، پھر میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور مجھے ڈکار آنے لگے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ڈکاروں پر کنٹرول کرو، کیونکہ جو شخص اس دنیا میں جتنا پیٹ بھر کر کھائے گا، قیامت کے دن اتنا ہی بھوکا ہو گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8061]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8061 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ، العوام بن جويرية ضعَّفه ابن معين في رواية ابن محرز، وقال فيه ابن حبان: كان ممَّن يروي الموضوعات عن الثقات على صلاح فيه، كان يهمُ ويأتي بالشيء على التوهم من غير أن يتعمد، فاستحقَّ ترك الاحتجاج به لما ظهر عليه من أمارات الجرح. وبه أعلَّه الذهبي في "التلخيص"، وتعجب الحافظ في ترجمة العوام من "اللسان" من إخراج الحاكم له.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند کمزور (واہی) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عوام بن جویریہ کو یحییٰ بن معین نے (ابن محرز کی روایت میں) ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں: یہ اپنی نیکی کے باوجود ثقہ راویوں سے من گھڑت (موضوع) روایات بیان کرتا تھا، اسے وہم ہوتا تھا اور یہ بغیر ارادے کے محض وہم کی بنیاد پر چیزیں بیان کر دیتا تھا، لہٰذا جرح کی علامات ظاہر ہونے کی وجہ سے یہ ترکِ احتجاج کا مستحق ہے۔ امام ذہبی نے ’التلخیص‘ میں اسی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے، اور حافظ ابن حجر نے ’لسان المیزان‘ میں عوام کے ترجمے میں امام حاکم کی طرف سے اس کی تخریج پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔
وقد اختلف على أبي معاوية - وهو محمد بن خازم الضرير - فيه، كما قال الدارقطني في "العلل" (2428)، فرواه يحيى بن حسان ويحيى بن يحيى وحجاج بن محمد ومحمد بن حاتم عن أَبي معاوية مرفوعًا، وخالفهم أَبو كريب ومحمد بن يزيد الأَدَمي فروياه عن أَبي معاوية موقوفًا. ويُشبه أَن يكون هذا من أَبي معاوية، مرّةً كان يرفعه، ومرةً يقفه. وقال أبو حاتم كما في "العلل" (1836): إنما يروى عن الحسن فقط، وقال بعضهم: الحسن عن أنس قوله.
🧾 تفصیلِ روایت: ابو معاویہ (محمد بن خازم الضریر) پر اس روایت میں اختلاف ہوا ہے، جیسا کہ دارقطنی نے ’العلل‘ (2428) میں بیان کیا؛ چنانچہ یحییٰ بن حسان، یحییٰ بن یحییٰ، حجاج بن محمد اور محمد بن حاتم نے اسے ابو معاویہ سے ’مرفوعاً‘ روایت کیا ہے، جبکہ ابو کریب اور محمد بن یزید الادمی نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے ابو معاویہ سے ’موقوفاً‘ روایت کیا ہے۔ امکان ہے کہ یہ عمل ابو معاویہ کی طرف سے ہی ہو کہ کبھی وہ اسے مرفوع بیان کرتے اور کبھی موقوف۔ 📌 اہم نکتہ: ابو حاتم نے جیسا کہ ’العلل‘ (1836) میں ہے، فرمایا: "یہ صرف حسن بصری سے مروی ہے،" اور بعض نے کہا: "یہ حسن بصری، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول (موقوف) کے طور پر بیان کرتے ہیں۔"
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (4628) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے ’شعب الایمان‘ (4628) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أبو عبد الرحمن السلمي في آداب الصحبة" (57)، وأبو القاسم بن بشران في "الأمالي" (1386)، والبيهقي في "الشعب" (4628) و (7800)، وفي "الآداب" (299) من طرق عن يحيى بن يحيى النيسابوري به.
📖 حوالہ / مصدر: نیز اسے ابو عبدالرحمٰن السلمی نے ’آداب الصحبۃ‘ (57) میں، ابو القاسم بن بشران نے ’الامالی‘ (1386) میں، اور بیہقی نے ’الشعب‘ (4628، 7800) اور ’الآداب‘ (299) میں یحییٰ بن یحییٰ نیشاپوری کے واسطے سے مختلف طرق سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان في "المجروحين" 2/ 196، والطبراني في "المعجم الكبير" (741)، وابن عدي في "الكامل" 2/ 282، وتمّام في "الفوائد" (974)، والخطيب في "تالي التلخيص" (146) من طرق عن أبي معاوية به. وقال ابن عدي وهذا الحديث الأصل فيه موقوف من قول أنس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے ’المجروحین‘ (2/ 196) میں، طبرانی نے ’المعجم الکبیر‘ (741) میں، ابن عدی نے ’الکامل‘ (2/ 282) میں، تمام نے ’الفوائد‘ (974) میں اور خطیب نے ’تالی التلخیص‘ (146) میں ابو معاویہ سے مختلف طرق کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ابن عدی فرماتے ہیں: "اس حدیث میں اصل یہ ہے کہ یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا قول (موقوف) ہے۔"
وأخرجه ابن أبي الدنيا في "الصمت" (556)، وابن أبي عاصم في "الزهد" (48)، وابن شاهين في "الترغيب في فضائل الأعمال" (391)، وتمّام (1696) من طرق عن أبي معاوية، به موقوفًا. وأخرجه مختصرًا هناد (1130) من طريق عبيد الله بن الوليد الوصّافي، عن العوّام، عن الحسن مرسلًا: أول العبادة الصمت والوصافي ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی الدنیا نے ’الصمت‘ (556) میں، ابن ابی عاصم نے ’الزہد‘ (48) میں، ابن شاہین نے ’الترغیب فی فضائل الاعمال‘ (391) میں اور تمام نے (1696) میں ابو معاویہ سے مختلف طرق کے ساتھ ’موقوفاً‘ تخریج کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ہناد (1130) نے اسے مختصراً عبید اللہ بن الولید الوصافی کے طریق سے، انہوں نے عوام سے اور انہوں نے حسن سے مرسلاً تخریج کیا ہے کہ "پہلی عبادت خاموشی ہے"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: واضح رہے کہ (راوی) وصافی ضعیف ہے۔
ورُوي هذا الخبر من كلام نبي الله عيسى ﵇ فأخرجه ابن المبارك في "الزهد" (629) ومن طريقه ابن أبي الدنيا في "الصمت" (643)، وأبو نعيم في "الحلية" 8/ 157 - عن وُهيب بن الوَرْد، وأخرجه هنّاد في "الزهد" (594) و (1131) عن سفيان الثوري، كلاهما (وهيب وسفيان) نسباه إلى عيسى ابن مريم.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ خبر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام کے کلام سے بھی مروی ہے۔ اسے ابن المبارک نے ’الزہد‘ (629) میں اور انہی کے طریق سے ابن ابی الدنیا نے ’الصمت‘ (643) میں اور ابو نعیم نے ’الحلیہ‘ (8/ 157) میں وہیب بن الورد سے تخریج کیا ہے۔ نیز ہناد نے ’الزہد‘ (594 اور 1131) میں اسے سفیان ثوری سے تخریج کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ان دونوں (وہیب اور سفیان) نے اس کلام کو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی طرف منسوب کیا ہے۔
قوله: "لا يُصَبنَ إلَّا بعَجَب" قال المناوي في "فيض القدير" بعين مهملة محركًا، أي: لا توجد وتجتمع في إنسان في آن واحد إلَّا على وجه عجيب عظيم، يُتعجَّب منه لعِظَم موقعه لكونها قلَّ أن تجتمع.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "لا يُصَبنَ إلَّا بعَجَب" کے بارے میں علامہ مناوی ’فیض القدیر‘ میں فرماتے ہیں: یہ عینِ مہملہ پر فتحہ (زبر) کے ساتھ ہے، یعنی: یہ خصلتیں کسی انسان میں بیک وقت جمع نہیں ہوتیں مگر بہت عجیب اور عظیم طریقے سے، جس پر تعجب کیا جاتا ہے کیونکہ ان کا اکٹھا ہونا شاذ و نادر (کم) ہی ہوتا ہے۔
وقال الأمير الصنعاني في "التَّنوير شرح الجامع الصَّغير": "لا يصبن إلَّا بعجب" لا يُبطَل ثوابُهن وكمال الاتصاف بهن إلا بعُجب، هو بضم العين وسكون الجيم: الزَّهو والكبر، أي: لا يبطل ثوابهن إلَّا ذلك.
📝 نوٹ / توضیح: امیر صنعانی ’التنویر شرح الجامع الصغیر‘ میں فرماتے ہیں: "لا يصبن إلَّا بعجب" کا مطلب ہے کہ ان کا ثواب اور ان کے ساتھ متصف ہونے کا کمال باطل نہیں ہوتا مگر ’عُجب‘ کی وجہ سے (یہاں عین پر پیش اور جیم ساکن ہے)، جس کا مطلب خود پسندی اور تکبر ہے؛ یعنی ان کا ثواب صرف اسی چیز سے ضائع ہوتا ہے۔