🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. لو أنكم توكلتم على الله لرزقكم كما يرزق الطير
اگر تم اللہ پر ویسا توکل کرو جیسا حق ہے، تو وہ تمہیں ویسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8093
حدثنا أبو علي الحسن بن الحسين بن محمد (3) القارئ، حدثني خالي محمد بن أشرَسَ السُّلَمي، حدثنا عبد الصمد بن حسّان، حدثنا سفيان الثَّوري، حدثني أبو سَلَمة الخُراساني، عن الربيع بن أنس، عن أبي العاليَة، عن أُبيِّ بن كعب قال: قال رسول الله ﷺ:"بَشِّرْ أُمتي بالسَّنَاءِ والرِّفعة والتمكينِ في البلاد ما لم يَطلُبوا الدُّنيا بعملِ الآخرة [فمن طلبَ الدُّنيا بعملِ الآخرةِ لم يكُنْ له في الآخرة من] (1) نصيبٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کو بارشوں سے سیرابی، دین کی سربلندی اور زمین میں حکومت کی خوشخبری دو، جب تک کہ وہ آخرت کے عمل کے بدلے دنیا طلب نہیں کریں گے، جس نے آخرت والے کسی عمل کے بدلے دنیا طلب کی، اس کو آخرت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8093]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8093 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) انقلب اسم الحسن بن الحسين بن محمد في النسخ الخطية إلى: الحسن بن محمد بن الحسين، والتصويب من "تاريخ نيسابور" للحاكم نفسه كما في "تلخيصه" للخليفة النيسابوري ص 85، ومن "تاريخ الإسلام" للذهبي 7/ 788.
📝 وضاحت: قلمی نسخوں میں "الحسن بن الحسین بن محمد" کا نام الٹ کر "الحسن بن محمد بن الحسین" ہو گیا تھا۔ درست نام حاکم کی اپنی کتاب "تاریخ نیشاپور" (جیسا کہ خلیفہ نیشاپوری کی تلخیص ص 85 میں ہے) اور ذہبی کی "تاریخ الاسلام" (7/ 788) سے لیا گیا ہے۔
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ الخطية، وأثبتناه من "تلخيص الذهبي" ومن مصادر التخريج.
📝 وضاحت: بریکٹس کے درمیان والی عبارت قلمی نسخوں سے ساقط ہو گئی تھی، ہم نے اسے "تلخیص الذہبی" اور مصادرِ تخریج سے ثابت کیا ہے۔
(2) حديث قوي، وهذا إسناد ضعيف من أجل محمد بن أشرس السلمي، وقد توبع. وسلف برقم (8059).
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث قوی ہے، یہ سند محمد بن اشرس السلمی کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم ان کی متابعت کی گئی ہے، اور یہ نمبر (8059) پر گزر چکا ہے۔