المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. بعث الجنة وبعث النار
جنت اور جہنم کے بھیجے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 81
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا إبراهيم بن عبد السلام. وحدثنا محمد بن صالح، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب؛ قالا: حدثنا أبو كُريب، حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن عاصم بن كُلَيب، عن مُحارِب بن دِثَار، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"اتَّقُوا دَعَواتِ المظلوم، فإنها تَصعَدُ إلى السماءِ كأنها شَرَارٌ" (2) . قد احتجَّ مسلم بعاصم بن كُليب، والباقون من رُوَاة هذا الحديث متَفقٌ على الاحتجاج بهم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 81 - احتج مسلم بعاصم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 81 - احتج مسلم بعاصم
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ وہ آسمان کی طرف اس طرح بلند ہوتی ہے جیسے چنگاریاں (اڑتی ہیں)۔“
امام مسلم نے عاصم بن کلیب سے احتجاج کیا ہے، اور اس حدیث کے باقی تمام راویوں سے احتجاج پر اتفاق ہے، لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 81]
امام مسلم نے عاصم بن کلیب سے احتجاج کیا ہے، اور اس حدیث کے باقی تمام راویوں سے احتجاج پر اتفاق ہے، لیکن ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اس کی تخریج نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 81]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 81 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح من جهة إبراهيم بن أبي طالب، أما إبراهيم بن عبد السلام - وهو أبو إسحاق الوشّاء - فقد ضعَّفه الدارقطني. أبو كريب: هو محمد بن العلاء الهمداني، وزائدة: هو ابن قُدامة.
⚖️ درجۂ حدیث: ابراہیم بن ابی طالب کی جہت سے یہ سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: جہاں تک ابراہیم بن عبدالسلام (ابواسحاق الوشاء) کا تعلق ہے، تو امام دارقطنی نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: سند میں مذکور ابوکریب سے مراد "محمد بن العلاء ہمدانی" ہیں اور زائدہ سے مراد "زائدہ بن قدامہ" ہیں۔
وأخرجه أبو منصور الديلمي في "مسند الفردوس" كما في "الغرائب الملتقطة" لابن حجر (128) من طريق عمرو بن مرزوق، عن زائدة بن قدامة، عن عطاء بن السائب، عن محارب بن دثار، به. وفي الإسناد إلى عمرو بن مرزوق من لا يُعرَف، وما عند الحاكم أصحُّ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابومنصور دیلمی نے "مسند الفردوس" میں روایت کیا ہے جیسا کہ ابن حجر کی "الغرائب الملتقطہ" (128) میں موجود ہے، جو عمرو بن مرزوق عن زائدہ بن قدامہ عن عطاء بن السائب عن محارب بن دثار کی سند سے ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمرو بن مرزوق تک کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کی پہچان نہیں ہے (مجہول ہیں)، لہٰذا امام حاکم کے ہاں موجود روایت زیادہ صحیح ہے۔