المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
45. حسب ابن آدم ثلاث أكلات يقمن صلبه
ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں
حدیث نمبر: 8143
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان، حدثنا همَّام، حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أبيه، عن أبي ذرٍّ: أنه أتى النبيَّ ﷺ فقال: إِنِّي أحبُّكم أهلَ البيت، فقال له النبيُّ ﷺ:"اللهِ؟" قال: آلله، قال:"فأعِدَّ للفقر تِجْفافًا، فإنَّ الفقر أسرعُ إلى من يُحبُّنا من السَّيلِ من أعلى الأكَمَةِ إلى أسفلِها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7944 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7944 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور عرض کی: اے اہل بیت! میں تم سے محبت کرتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم اللہ کی قسم کھا کر یہ بات کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر فقر سے بچاؤ کے لیے ڈھال تیار کر کے رکھو کیونکہ جو ہم سے محبت کرتا ہے اس کی جانب فقر اتنی تیزی سے آتا ہے کہ اتنی تیزی سے تو پہاڑ کی چوٹی سے سیلاب بھی اس کی گہرائی کی طرف نہیں آتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8143]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8143 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات غير أنه لا يعرف لعبد الله بن أبي طلحة رواية عن أبي ذر. ولم نقف على أحد أخرج الحديث غير المصنف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں، 🔍 فنی نکتہ / علّت: سوائے اس کے کہ عبد اللہ بن ابی طلحہ کی ابو ذر سے روایت معروف نہیں ہے (یعنی انقطاع کا شبہ ہے)۔ اور مصنف کے علاوہ ہمیں کوئی نہیں ملا جس نے اس حدیث کی تخریج کی ہو۔
وفي الباب عن عبد الله بن المغفل عند الترمذي (2350)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (1471)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں عبد اللہ بن مغفل سے ترمذی (2350) اور بیہقی کی "شعب الایمان" (1471) میں روایت ہے، اور اس کی سند ضعیف ہے۔
وعن أبي هريرة عند ابن ماجه (2448)، وفيه عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد المقبري، وهو متروك.
🧩 متابعات و شواہد: اور (ایک شاہد) ابوہریرہ سے ابن ماجہ (2448) میں ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں عبد اللہ بن سعید بن ابی سعید المقبری ہے، اور وہ "متروک" ہے۔
وعن أنس بن مالك عند البزار (3595)، والبيهقي في "الشعب" (1470)، وفي إسناده بكر بن سليم الصواف، وقد تفرد به، وفيه كلام.
🧩 متابعات و شواہد: اور (ایک شاہد) انس بن مالک سے بزار (3595) اور بیہقی کی "الشعب" (1470) میں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں بکر بن سلیم الصواف ہے، وہ اسے بیان کرنے میں منفرد ہے اور اس کے بارے میں کلام (جرح) کیا گیا ہے۔
وعن ابن عباس عند البيهقي في "السنن" 6/ 119، وفي إسناده الحسين بن قيس الرحبي، ولقبه حنش، وهو متروك.
🧩 متابعات و شواہد: اور (ایک شاہد) ابن عباس سے بیہقی کی "السنن" (6/ 119) میں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں حسین بن قیس الرحبی ہے، اس کا لقب "حنش" ہے اور وہ "متروک" ہے۔
وعن أبي سعيد الخُدري عند أحمد 17/ (11379)، وإسناده ضعيف لإرساله. وانظر التعليق عليه هناك.
🧩 متابعات و شواہد: اور (ایک شاہد) ابو سعید خدری سے احمد (17/ 11379) میں ہے، اور اس کی سند "مرسل" ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اس پر تعلیق (بحث) وہاں دیکھیں۔
قوله: "تجفافًا" بكسر الفوقية وسكون الجيم، قال صاحب "النهاية في غريب الحديث" 1/ 182: ما يجلَّل به الفرس من سلاح وآلة تَقيهِ الجراح، وفرس مجفَّف: عليه تجفاف، والجمع: التجافيف، والتاء فيه زائدة.
📝 لغوی تحقیق: لفظ "تجفافًا" (ت کے نیچے زیر اور ج کے سکون کے ساتھ): "النہایۃ فی غریب الحدیث" (1/ 182) کے مصنف نے کہا: یہ وہ ہتھیار اور آلات ہیں جن سے گھوڑے کو ڈھانپا جاتا ہے تاکہ وہ زخموں سے محفوظ رہے۔ "فرس مجفَّف" کا مطلب ہے جس پر تجفاف (لوہے کی جھول/زرہ) ہو۔ اس کی جمع "تجافیف" ہے اور اس میں (شروع والی) 'ت' زائد ہے۔
قال علي القاري في "مرقاة المفاتيح" 8/ 3287 كنَّى بالتجفاف عن الصبر لأنه يستر الفقر، كما يستر التجفاف البدن عن الضر.
📝 نوٹ / توضیح: ملا علی قاری نے "مرقاۃ المفاتیح" (8/ 3287) میں فرمایا: یہاں "تجفاف" سے مراد کنایۃً "صبر" لیا گیا ہے کیونکہ یہ فقر کو اسی طرح چھپا لیتا ہے جس طرح تجفاف (زرہ) بدن کو تکلیف سے چھپا لیتی (بچا لیتی) ہے۔