المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
24. من سمع النداء فلم يأته فلا صلاة له إلا من عذر
جس نے اذان سنی اور بغیر عذر مسجد نہ آیا اس کی نماز نہیں۔
حدیث نمبر: 815
ما حدَّثَناه أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جَرِير، عن أبي جَنَاب، عن مَغْراء العَبْدِي، عن عَدِيِّ بن ثابت، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"من سَمِعَ المنادي فلم يَمنَعْه من اتِّباعه عذرٌ، فلا صلاةَ له" قالوا: وما العذرُ؟ قال:"خوف أو مرضٌ" (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے پکارنے والے (مؤذن) کو سنا اور کسی عذر نے اسے (مسجد کی طرف) جانے سے نہ روکا، تو اس کی نماز (کامل) نہیں۔“ صحابہ نے پوچھا: عذر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوف یا بیماری۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 815]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 815 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف أبي جناب: وهو يحيى بن أبي حيَّة الكلبي. جرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) ابوجناب (یحییٰ بن ابی حیہ الکلبی) کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: جریر سے مراد ابن عبدالحمید ہیں۔
وأخرجه بنحو هذا اللفظ أبو داود (551) عن قتيبة بن سعيد بهذا الإسناد. وانظر تتمة تخريجه فيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح کے الفاظ کے ساتھ ابوداؤد (551) نے قتیبہ بن سعید کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔