المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. لا صلاة لجار المسجد إلا فى المسجد
مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد ہی میں ہے۔
حدیث نمبر: 817
ما أخبرَناه أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا يحيى بن إسحاق، حدثنا سليمان بن داود اليَمَامي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا صلاةَ لجارِ المسجد إلّا في المسجد" (3) . وقد صحَّت الروايةُ فيه عن أبي موسى الأشعري عن رسول الله ﷺ من حديث أبي حَصَين عن أبي بُردة بن أبي موسى عن أبيه:"مَن سَمِعَ النداءَ فلم يُجِبْ …" الحديث:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد ہی میں ہوتی ہے۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کے ہم معنی روایت سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 817]
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس کے ہم معنی روایت سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، سليمان بن داود اليمامي - وهو أبو الجمل قال ابن معين: ليس بشيء، وضعَّفه ابن حبان، وقال الدارقطني: متروك، وقال البخاري: منكر الحديث-، وأخرجه البيهقي 3/ 57 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد-» [ترقيم الرساله 817] [ترقيم الشركة 905]
الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 817 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده واهٍ، سليمان بن داود اليمامي - وهو أبو الجمل قال ابن معين: ليس بشيء، وضعَّفه ابن حبان، وقال الدارقطني: متروك، وقال البخاري: منكر الحديث. ¤ ¤ وأخرجه البيهقي 3/ 57 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) یہ سند انتہائی کمزور (واہٍ) ہے، سلیمان بن داؤد الیمامی (ابوالجمل) کے بارے میں ابن معین نے کہا کہ وہ کچھ بھی نہیں، دارقطنی نے متروک اور بخاری نے منکر الحدیث کہا ہے۔ اسے بیہقی نے امام حاکم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (1553)، ومن طريقه ابن الجوزي في "العلل المتناهية" (693) من طريق محمد بن سعيد بن غالب العطار، عن يحيى بن إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (1553) اور ان کے طریق سے ابن الجوزی نے "العلل المتناہیہ" (693) میں یحییٰ بن اسحاق کی سند سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن جابر بن عبد الله عند الدارقطني (1552) ومن طريقه ابن الجوزي (694)، وإسناده ضعيف ليِّن.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت جابر بن عبداللہ کی حدیث دارقطنی (1552) میں ہے، مگر اس کی سند ضعیف اور لین ہے۔
وعن عائشة عند ابن حبان في "المجروحين" 2/ 94، وابن الجوزي في "العلل المتناهية" (695)، وإسناده ضعيف جدًّا.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت عائشہ سے مروی روایت ابن حبان نے "المجروحین" میں ذکر کی ہے، مگر اس کی سند انتہائی ضعیف ہے۔
وعن علي موقوفًا عند عبد الرزاق (1915)، وابن أبي شيبة 1/ 345، والبيهقي 3/ 57، وسنده ضعيف أيضًا.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ روایت موقوفاً عبدالرزاق (1915)، ابن ابی شیبہ (345/1) اور بیہقی (57/3) کے ہاں مروی ہے، مگر اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
قال الحافظ ابن حجر في "التلخيص الحبير" 2/ 31: حديث "لا صلاة لجار المسجد إلّا في المسجد" مشهور بين الناس، وهو ضعيف ليس له إسناد ثابت.
⚖️ درجۂ حدیث: حافظ ابن حجر نے "التلخیص الحبیر" (31/2) میں کہا: حدیث "مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد ہی میں ہوتی ہے" لوگوں میں مشہور تو ہے، مگر یہ ضعیف ہے اور اس کی کوئی ثابت سند نہیں ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 817 in Urdu