🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. ما من ثلاثة فى قرية ولا فى بدو لا تقام فيهم الصلاة إلا استحوذ عليهم الشيطان فعليك بالجماعة
کسی بستی یا جنگل میں تین آدمی ہوں اور جماعت قائم نہ کریں تو شیطان ان پر غالب آ جاتا ہے، اس لیے جماعت کو لازم پکڑو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 820
حدثني أحمد بن منصور بن عيسى الحافظ المزكِّي، بالطابَرَانِ، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا علي بن سهل الرَّمْلي، حدثنا زيد بن أبي الزَّرقاء، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، عن ابن أمِّ مكتوم قال: قلت: يا رسول الله إنَّ المدينة كثيرةُ الهَوَامِّ والسِّباع، قال:"تسمعُ: حيَّ على الصلاة، حيَّ على الفلاح؟" قال: نعم، قال:"فحيَّ هَلَا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه، إن كان ابن عابس سَمِعَ من ابن أمِّ مكتوم. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 901 - صحيح
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مدینہ میں زہریلے جانور اور درندے بہت ہیں (اور میں نابینا ہوں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» سنتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر (مسجد) آیا کرو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اس کا شاہد بھی صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 820]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 820 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عبد الرحمن بن عابس لم يسمع من ابن أم مكتوم، بينهما فيه عبد الرحمن بن أبي ليلى، وهو الآخر لم يسمع منه. سفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے مگر یہ سند "منقطع" (ٹوٹی ہوئی) ہے۔ عبدالرحمن بن عابس نے ابن ام مکتوم سے نہیں سنا، ان کے درمیان عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کا واسطہ ہے اور انہوں نے بھی ان سے نہیں سنا۔ سفیان سے مراد ثوری ہیں۔
وأخرجه أبو داود (553)، والنسائي (926) عن هارون بن زيد بن أبي الزرقاء، عن أبيه، بهذا الإسناد - لكن بذكر عبد الرحمن بن أبي ليلى فيه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (553) اور نسائی (926) نے ہارون بن زید کی سند سے روایت کیا ہے، جس میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کا ذکر موجود ہے۔
وأخرجه كذلك النسائي (926) من طريق قاسم بن يزيد عن سفيان، به. وانظر ما بعده وما سيأتي برقم (6818).
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (926) نے قاسم بن یزید عن سفیان کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔ یہ آگے نمبر (6818) پر آئے گی۔
ويشهد له حديث أبي هريرة عند مسلم (653).
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت ابوہریرہ کی حدیث (مسلم 653) سے ہوتی ہے۔