المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
27. إذا استهل الصبي ورث وصلي عليه
اگر بچہ پیدا ہوتے ہی رو پڑے (زندگی کی علامت دکھائے) تو وہ وارث ہوگا اور اس کا جنازہ پڑھا جائے گا
حدیث نمبر: 8219
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن بَشير بن محمد بن عبد الله بن زيد، عن جدِّه عبدِ الله بن زيد: أنه تصدَّق بحائطٍ فأتَى أبواه النبيَّ ﷺ، فقالا: يا رسولَ الله، إنها كانت قِيَمَ وجوهِنا، ولم يكن لنا شيءٌ غيرُه، فدعا عبدَ الله فقال:"إِنَّ الله تعالى قد قَبِلَ صدقتك، وردَّها على أبويك". قال بشيرٌ: فتوارَثْناها بعد ذلك (2) . وهذا الحديث وإن كان إسناده صحيحًا على شرط الشيخين، فإني لا أرَى بشيرَ بن محمد الأنصاري سمعَ من جدِّه عبد الله بن زيد، وإنما ترك الشيخان حديثَ عبد الله بن زيد في الأذان والرؤيا التي قصَّها على رسول الله ﷺ بهذا الإسناد لتقدُّم موتِ عبد الله بن زيد، فقد قيل: إنه استُشهِد بأُحد، وقيل: بعد ذلك بيسير، والله أعلم (3) .
محمد بن عبداللہ بن زید کے بیٹے بشیر اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا باغ صدقہ کر دیا، ان کے والدین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری گزر اوقات فقط اسی باغ سے ہی ہوتی ہے، اس کے علاوہ ہمارا روزی کا کوئی آسرا نہیں ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ کو بلایا اور فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تیرا صدقہ قبول کر لیا ہے اور وہ باغ تیرے والدین کی طرف لوٹا دیا ہے، بشیر کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ باغ ہمیں وراثت میں ملا۔ ٭٭ اس حدیث کی اسناد اگرچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن بشیر بن محمد انصاری نے اپنے دادا عبداللہ بن زید سے سماع نہیں کیا۔ اسی اسناد کے ہمراہ عبداللہ بن زید کی اذان کے بارے میں اور وہ خواب جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تھا منقول ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس لیے چھوڑا تھا کہ عبداللہ بن زید کی وفات پہلے ہے۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ جنگ احد میں شہید ہوئے اور بعض کا موقف یہ ہے کہ ان کی شہادت احد کے چند دنوں بعد ہوئی۔ واللہ أعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8219]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8219 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث حسن بطرقه كسابقيه، وهذا إسناد ضعيف، بشير بن محمد بن عبد الله مجهول الحال، وهو أيضًا لم يدرك جدَّه عبد الله كما تقَّدم بيانه عند الرواية السالفة برقم (5538)، وكما أشار المصنف عقبه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے دیگر طرق کی بنا پر "حسن" ہے (جیسے پچھلی دو تھیں)، لیکن یہ سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بشیر بن محمد بن عبداللہ "مجہول الحال" ہیں، اور انہوں نے اپنے دادا عبداللہ کا زمانہ نہیں پایا جیسا کہ روایت نمبر (5538) میں گزر چکا ہے اور مصنف نے اس کے بعد اشارہ کیا ہے۔
(3) علَّق الذهبي في "التلخيص" على كلام الحاكم بقوله: فتعيَّن أن حديث أبي بكر بن حزم عنه مقطوع. يعني الحديث السابق عند المصنف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ذہبی نے "التلخیص" میں حاکم کے کلام پر تعلیق لگاتے ہوئے فرمایا: "پس یہ طے ہو گیا کہ ابوبکر بن حزم کی ان سے حدیث 'مقطوع' (منقطع) ہے۔" یعنی مصنف (حاکم) کی ذکر کردہ پچھلی حدیث۔
وقول المصنف عن عبد الله بن زيد: إنه استشهد بأحد … إلخ، يخالف ما قاله بإثر الحديث السالف في ترجمته برقم (5537): إنما توفي عبد الله بن زيد في أواخر خلافة عثمان.
📝 تضاد / نوٹ: مصنف کا عبداللہ بن زید کے بارے میں یہ کہنا کہ "وہ احد میں شہید ہوئے..." ان کے اپنے ہی اس قول کے خلاف ہے جو انہوں نے گزشتہ حدیث نمبر (5537) کے بعد ان کے ترجمہ میں کہا تھا کہ: "عبداللہ بن زید خلافتِ عثمان کے آخر میں فوت ہوئے۔"