المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. ذكر حبس سيل تخرج منه نار 8416 - أخبرناه أحمد بن كامل القاضي ، ثنا محمد بن سعد بن الحسن العوفي ، ثنا عثمان بن عمر بن فارس ، أنبأ عبد الحميد بن جعفر ، عن أبى جعفر محمد بن على بن الحسين - رضي الله عنهم - ، عن رافع بن بشر السلمي ، عن أبيه ، أن رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - ، قال : " تخرج نار من حبس سيل تسير بسير بطيئة ، تكمن بالليل وتسير بالنهار ، تغدو وتروح ، يقال : غدت النار أيها الناس فاغدوا ، قالت النار أيها الناس فقيلوا ، راحت النار أيها الناس فروحوا ، من أدركته أكلته " .
حبسِ سیل (یمن کی ایک جگہ) سے نکلنے والی آگ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8573
فحدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا إسماعيل بن أبي أويس، حدثنا عَباية بن بكر بن أبي ليلى المُزَني، عن إبراهيم بن إسماعيل بن مُجمِّع، عن عبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حزم، عن أبيه قال: حدثني أبو البَدَّاح بن عاصم الأنصاري، عن أبيه أنه قال: سألنا رسول الله ﷺ حِدْثانَ ما قَدِمَ، فقال:"أين حِبْسُ سَيَل؟" قلنا: لا ندري، فمرَّ بي رجلٌ من بني سُلَيم، فقلتُ: من أين جئتَ؟ فقال: من حِبْس سَيَل، فدعوتُ بنعلي، فانحدرت إلى رسول الله ﷺ فقلت: يا رسول الله، إِنَّكَ سألتنا عن حِبْس سَيَل، وإنَّه لم يكن لنا به عِلمٌ، وإنه مرَّ بي هذا الرجل فسألته، فزَعَمَ أنَّ به أهله، فسأله رسول الله ﷺ فقال:"أين أهلك؟" قال: بحبس سيل، فقال:"أخِّرْ أهلك، فإنه يُوشِكُ أن تخرج منه نار تضيء أعناق الإبل ببصرى" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8368 - منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8368 - منكر
ابوالبداح بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: دو واقعے کب رونما ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حبس سیل کہاں ہے؟ ہم نے کہا: ہم نہیں جانتے، اسی اثناء میں بنی سلیم کا ایک آدمی وہاں سے گزرا، میں نے اس سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: حبس سیل سے۔ میں نے اپنے جوتے منگوائے، اور (ان کو پہن کر) جلدی جلدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے ہم سے ” حبس سیل “ کے بارے میں پوچھا تھا، ہمیں اس وقت اس کے بارے میں کچھ علم نہ تھا، ایک آدمی میرے پاس سے گزرا، میں نے اس سے پوچھ لیا ہے، شاید اس کے گھر والے وہیں رہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تیرے گھر والے کہاں رہتے ہیں؟ اس نے کہا: حبس سیل میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر والوں کو وہاں سے (کسی اور جگہ) منتقل کر دے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہاں سے آگ نمودار ہو اور وہ آگ بصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8573]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8573 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع وجهالة عباية بن بكر، وقال الذهبي في "التلخيص": منكر وإبراهيم ضعيف وإسماعيل متكلم فيه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع کے ضعف اور عبایہ بن بکر کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ذہبی نے "التلخیص" میں فرمایا: یہ منکر ہے، ابراہیم ضعیف ہے اور اسماعیل میں کلام کیا گیا ہے۔
وأخرجه ابن قانع في "معجم الصحابة" 2/ 295 - 296، والطبراني في "الكبير" 17/ (458)، والمستغفري في "دلائل النبوة" (323) من طريقين عن إسماعيل بن أبي أويس، بهذا الإسناد. ووقع في المطبوع من الطبراني سقط في الإسناد يستدرك من هنا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن قانع نے "معجم الصحابۃ" 2/ 295-296 میں، طبرانی نے "الکبیر" 17/ (458) میں، اور مستغفری نے "دلائل النبوۃ" (323) میں اسماعیل بن ابی اویس کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: طبرانی کے مطبوعہ نسخے میں سند میں کچھ حصہ ساقط ہے جسے یہاں سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔