🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
72. يكون للدابة ثلاث خرجات
دابۃ الارض (زمین سے نکلنے والے جانور) کے تین بار ظاہر ہونے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8701
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، عن هشام بن حسَّان، عن قيس بن سعد، عن أبي الطُّفيل، قال: كنا جلوسًا عند حُذيفة، فذُكِرَت الدابةُ، فقال حذيفة: إنها تخرجُ خَرَجاتٍ في بعض البوادي ثم تتكمَّن (1) ، ثم تخرجُ في بعض القُرى حتى يُذعَروا (2) حتى تُهريقَ فيها الأمراءُ الدماءَ، ثم تتكمَّن، قال: فبَيْنا الناسُ عند أعظمِ المساجدِ وأفضلِها وأشرفِها - حتى قلنا المسجد الحرام، وما سمَّاه - إذ ارتفَعَت الأرضُ، فترتفع الأرضُ ويهربُ الناس ويبقى عَامّةٌ من المسلمين تقول: إنه ليس يُنجينا من أمر الله شيءٌ، فَتَخرُجُ فتَجلُو وجوهَهم حتى تجعلَها كالكواكب الدُّرِّيّة، وتتَّبِع الناسَ (3) ، جيرانٌ في الرِّباع، شركاءُ في الأموال، وأصحابٌ في الأسفار (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8491 - على شرط البخاري ومسلم
ابوالطفیل بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں دابہ کا ذکر چل نکلا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تین مرتبہ نکلے گا، ایک دفعہ وہ کسی دیہاتی علاقے میں نکلے گا، پھر چھپ جائے گا، پھر وہ کسی شہری علاقے میں ظاہر ہو گا، لوگ اس سے خوف زدہ ہو جائیں گے، اس میں حکمران بہت خون بہائیں گے۔ پھر یہ چھپ جائے گا، پھر ایک موقع پر لوگ سب سے اعلی، اسب سے افضل، سب سے اشرف (مسجد حرام) میں ہوں گے، زمین اونچی ہونا شروع ہو جائے گی، لوگ یہ دیکھ کر بھاگ جائیں گے، اور کچھ مسلمان وہاں ثابت قدم رہیں گے، کہیں گے: ہمیں اللہ کے فیصلے سے کوئی عمل نکال نہیں سکتا۔ دابہ باہر نکلے گا، وہ لوگوں کے چہروں کو ستاروں کی مانند چمکا دے گا، وہ لوگوں کے ساتھ رہے گا، لوگ محلے میں اس کے پڑوسی ہوں گے، لوگ اپنے مال میں اس کو شریک کریں گے، اور اسلام میں اس کے ساتھی بنیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8701]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8701 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: تتمكن، والتصويب من "تلخيص المستدرك". ومعنى "تتكمَّن" تختفي عن الأنظار.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "تتمکن" ہے، درستگی "تلخیص المستدرک" سے کی گئی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "تتکمَّن" کا معنی ہے: نظروں سے چھپ جانا۔
(2) في النسخ الخطية: يذعروه، والصواب ما أثبتنا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "یذعروہ" ہے، جبکہ درست وہ ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے۔
(3) الظاهر أنَّ هنا سقطًا في نسخنا الخطية، ففي مصادر التخريج - وأقربها لفظًا لرواية المصنف رواية الفاكهي (2344) - ثم تتبع الناس فتخطم الكافر وتجلو وجه المؤمن، ثم لا ينجو منها هارب ولا يدركها طالب، قالوا: وما الناس يومئذ يا حذيفة؟ قال: جيران … .. إلخ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ہمارے قلمی نسخوں میں کچھ عبارت ساقط (مسنگ) ہے۔ تخریج کے مصادر - اور ان میں مصنف کی روایت سے قریب ترین الفاظ فاکہی (2344) کے ہیں - میں یہ الفاظ ہیں: "پھر وہ (جانور) لوگوں کا پیچھا کرے گا، کافر کی ناک پر داغ لگائے گا اور مومن کے چہرے کو روشن کرے گا، پھر کوئی بھاگنے والا اس سے نجات نہیں پائے گا اور کوئی طلب کرنے والا اسے پا نہیں سکے گا۔ لوگوں نے کہا: اے حذیفہ! اس دن لوگ کیسے ہوں گے؟ فرمایا: پڑوسی..." الخ۔
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: في الإسلام، والتصويب من كافة مصادر التخريج. والخبر رجال إسناده ثقات إلّا أنه لا يعرف لقيس بن سعد - وهو المكي - سماع من أبي الطفيل، وذكره علي بن المديني - كما في "جامع التحصيل" - فيمن لم يلق أحدًا من الصحابة، وأبو الطفيل عامر بن واثلة من صغار الصحابة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "في الإسلام" ہو گیا ہے، درستگی تمام مصادرِ تخریج سے کی گئی ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس خبر کی سند کے رجال ثقہ ہیں، لیکن "قیس بن سعد" (جو کہ مکی ہیں) کا سماع "ابو الطفیل" سے ثابت نہیں ہے۔ علی بن مدینی نے - جیسا کہ "جامع التحصیل" میں ہے - انہیں ان لوگوں میں شمار کیا ہے جنہوں نے کسی صحابی سے ملاقات نہیں کی، حالانکہ ابو الطفیل عامر بن واثلہ صغار صحابہ میں سے ہیں۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 84، ونعيم بن حماد في "الفتن" (1868) من طريق معمر، والبخاري في "التاريخ الكبير" 5/ 391 - 392 من طريق عبيد الله بن عدي الكندي، والفاكهي في "أخبار مكة" (2344) من طريق فضيل بن عياض، والمستغفري في "دلائل النبوة" (404) من طريق قرة بن سليمان، أربعتهم عن هشام بن حسان، بهذا الإسناد. إلَّا أنَّ معمرًا في رواية ابن المبارك ومحمد بن ثور عنه عند نعيم في "الفتن" لم يسمِّ شيخه، وفي رواية عبد الرزاق عنه سمّاه، والبخاري في "تاريخه" ذكر أوله فقط، وتحرَّف في مطبوعه قيس بن سعد إلى: عامر بن سعد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے "تفسیر" (2/ 84) میں؛ نعیم بن حماد نے "الفتن" (1868) میں معمر کے طریق سے؛ بخاری نے "التاریخ الکبیر" (5/ 391-392) میں عبید اللہ بن عدی کندی کے طریق سے؛ فاکہی نے "اخبار مکہ" (2344) میں فضیل بن عیاض کے طریق سے؛ اور مستغفری نے "دلائل النبوۃ" (404) میں قرۃ بن سلیمان کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ چاروں ہشام بن حسان سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ معمر نے ابن مبارک اور محمد بن ثور کی روایت میں (جو نعیم کی "الفتن" میں ہے) اپنے شیخ کا نام نہیں لیا، جبکہ عبد الرزاق کی روایت میں نام لیا ہے۔ اور بخاری نے اپنی "تاریخ" میں صرف ابتدائی حصہ ذکر کیا ہے، اور ان کے مطبوعہ نسخے میں "قیس بن سعد" کا نام تحریف ہو کر "عامر بن سعد" چھپ گیا ہے۔
ورواه أبو سفيان المعمري عن معمر عند الطبري في "تفسيره" 20/ 14، فأسقط هشام بن حسان!
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو سفیان معمری نے معمر سے طبری کی "تفسیر" (20/ 14) میں روایت کیا ہے، تو انہوں نے (درمیان سے) ہشام بن حسان کو گرا دیا!
وأخرجه الطبري أيضًا من طريق فرات القزاز وواصل مولى أبي عيينة، كلاهما عن أبي الطفيل، به. وفي كلا الطريقين ضعف، وطريق فرات أحسنهما.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "فرات قزاز" اور "واصل مولیٰ ابی عیینہ" کے طریق سے بھی روایت کیا ہے، اور یہ دونوں ابو الطفیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان دونوں طریقوں میں ضعف پایا جاتا ہے، تاہم فرات کا طریق ان دونوں میں نسبتاً بہتر ہے۔