المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
52. من السنة إذا دخلت المسجد أن تبدأ برجلك اليمنى وإذا خرجت أن تبدأ برجلك اليسرى
سنت یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے رکھو اور نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے نکالو۔
حدیث نمبر: 886
حدثنا أبو حفص عمر بن جعفر المفيد البَصْري، حدثنا أبو خَلِيفة القاضي، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا شدَّاد أبو طلحة قال: سمعت معاويةَ بن قُرَّة يحدِّث عن أنس بن مالك أنه كان يقول: مِن السُّنَّة إذا دخلتَ المسجدَ أن تبدأَ برِجْلِك اليمنى، وإذا خرجتَ أن تبدأ بِرجْلِك اليسرى (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بشدَّاد بن سعيد أبي طلحة الراسِبي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 791 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بشدَّاد بن سعيد أبي طلحة الراسِبي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 791 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب تم مسجد میں داخل ہو تو پہلے اپنا دایاں پاؤں رکھو اور جب باہر نکلو تو پہلے اپنا بایاں پاؤں رکھو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 886]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 886]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 886 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 442 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. ثم قال: تفرد به شداد بن سعيد أبو طلحة الراسبي وليس بالقوي. كذا قال، وشداد هذا قد اختُلف فيه فمنهم من وثَّقه كأحمد وابن معين، ومنهم من ليَّنه، وقال الحافظ ابن حجر في "التقريب": صدوق يخطئ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (442/2) نے ابوعبداللہ الحاکم کی سند سے روایت کیا، پھر فرمایا: اس روایت میں شداد بن سعید (ابوطلحہ الراسبی) منفرد ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: شداد کے بارے میں اختلاف ہے، امام احمد اور ابن معین نے توثیق کی ہے جبکہ بعض نے انہیں لین (کمزور) کہا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: وہ سچے ہیں مگر غلطی کر جاتے ہیں۔