المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
142. المهدي يعيش سبعا أو ثمانيا
سیدنا مہدی علیہ السلام سات یا آٹھ سال تک حکومت کریں گے
حدیث نمبر: 8888
حدثنا عبد الله بن سَعْد الحافظ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب وإبراهيم بن إسحاق وجعفر بن أحمد الحافظ قالوا: حدثنا نَصْر بن علي، حدثنا محمد بن مروان، حدثنا عُمارة بن أبي حَفْصة، عن زيد العَمِّي، عن أبي الصِّدّيق الناجيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"يكون في أمَّتي المهديُّ، إن قَصُرَ فسبعٌ وإلَّا فتِسعٌ، تَنعَمُ أمّتي فيه نعمةً لم ينعموا مثلَها قطُّ، تُؤْتي الأرضُ أُكُلَها لا تَدَّخِرُ عنهم شيئًا، والمالُ يومئذٍ كُدُوسٌ، يقوم الرجلُ فيقول: يا مهديُّ، أعطِني، فيقول: خُذْ" (3) . [آخر كتاب الفتن] قال الحاكم ﵀: قد رَوَيتُ ما انتهى إليه عِلْمي من فِتَن آخر الزَّمان على لسان المصطفى ﷺ بالأسانيدِ اللائقةِ بشَرْط هذا الكتاب، فأمَّا الشيخانِ ﵄ فإنهما ذَكَرا أهوالَ القيامةِ والحَشْرِ مُدرَجًا في الفِتَن، وجَرَيتُ أنا في ذلك على اختيار الإمام أبي بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة ﵁ في إفراد ذلك عن الفِتَنِ الدُّنَائيّة (1) ، والله الموفِّقُ لما اخترتُه، وهو حَسْبي ونِعمَ الوكيلُ. [كتاب الأهوال] ﷽ قال اللهُ ﵎: ﴿وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ (87) وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً﴾ الآية [النمل: 87 - 88] . وقال عزَّ مِن قائل: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ [الزمر: 68] .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر ان کی مدت کم ہوئی تو سات سال ورنہ نو سال ہوگی، اس دور میں میری امت ایسی خوشحالی و نعمتوں میں ہوگی کہ ویسی پہلے کبھی نہ ہوئی ہوگی، زمین اپنی تمام پیداوار دے گی اور ان سے کچھ بھی نہیں چھپائے گی، اور اس زمانے میں مال ڈھیروں کی شکل میں (پڑا) ہوگا، کوئی شخص کھڑا ہو کر کہے گا: اے مہدی! مجھے عطا کیجیے، تو وہ کہیں گے: لے لو۔“ [کتاب الفتن کا اختتام] امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں نے اپنے علم کے مطابق آخر زمانے کے فتنوں کے بارے میں وہ تمام روایات اس کتاب کی شرائط کے مطابق مناسب اسناد کے ساتھ روایت کر دی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے مروی تھیں، جہاں تک شیخین کا تعلق ہے تو انہوں نے قیامت کی ہولناکیوں اور حشر کے ذکر کو فتنوں کے باب ہی میں ضمناً ذکر کیا ہے، جبکہ میں نے اس معاملے میں امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رضی اللہ عنہ کے اختیار کردہ طریقے کی پیروی کی ہے کہ ان ہولناکیوں کو دنیاوی فتنوں سے الگ مستقل بیان کیا جائے، اور اللہ ہی میری اس پسند پر توفیق دینے والا ہے، وہی میرے لیے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔ [کتاب الاہوال یعنی قیامت کی ہولناکیوں کا بیان] اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ (87) وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً﴾ [سورة النمل: 87 - 88] اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ [سورة الزمر: 68] [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8888]
میں نے اپنے علم کے مطابق آخر زمانے کے فتنوں کے بارے میں وہ تمام روایات اس کتاب کی شرائط کے مطابق مناسب اسناد کے ساتھ روایت کر دی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے مروی تھیں، جہاں تک شیخین کا تعلق ہے تو انہوں نے قیامت کی ہولناکیوں اور حشر کے ذکر کو فتنوں کے باب ہی میں ضمناً ذکر کیا ہے، جبکہ میں نے اس معاملے میں امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رضی اللہ عنہ کے اختیار کردہ طریقے کی پیروی کی ہے کہ ان ہولناکیوں کو دنیاوی فتنوں سے الگ مستقل بیان کیا جائے، اور اللہ ہی میری اس پسند پر توفیق دینے والا ہے، وہی میرے لیے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔ [کتاب الاہوال یعنی قیامت کی ہولناکیوں کا بیان] اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ (87) وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً﴾ [سورة النمل: 87 - 88] اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ [سورة الزمر: 68] [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8888]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف زيد العمِّي» [ترقيم الرساله 8888] [ترقيم الشركة 8780]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8888 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف لضعف زيد العمِّي. نصر بن علي هو الجهضمي، ومحمد بن مروان: هو العقيلي. وأخرجه ابن ماجه (4083) عن نصر بن علي بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "زید العمی" کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: نصر بن علی سے مراد الجہضمی اور محمد بن مروان سے مراد العقیلی ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4083) نے نصر بن علی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 17/ (11163)، والترمذي (2232) من طريق شعبة، وأحمد (11212) من طريق موسى الجهني، كلاهما عن زيد العمي به. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسی جیسی روایت امام احمد (17 / 11163) اور ترمذی (2232) نے شعبہ کے طریق سے، اور امام احمد (11212) نے موسیٰ الجہنی کے طریق سے نکالی ہے، یہ دونوں زید العمی سے روایت کرتے ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔
(1) هكذا في نسخنا الخطية، وفي نسختين متأخرتين كما في طبعة الميمان: الدنيائية. وهذه النسبة إلى الدنيا.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ اسی طرح ہے، جبکہ دو متاخر نسخوں (جیسا کہ میمن ایڈیشن میں ہے) میں "الدنیائیۃ" ہے، یہ دنیا کی طرف نسبت ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8888 in Urdu