🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. تدنو الشمس من الأرض فيعرق الناس يوم القيامة
قیامت کے دن سورج زمین کے قریب ہو جائے گا اور لوگ پسینے میں ڈوب جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8919
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشَّانةَ المَعافِري حدَّثه، أنه سمع عُقْبةَ بن عامر الجُهَني يقول: رأيتُ رسول الله ﷺ يقول:"تَدْنو الشمسُ من الأرض فيَعرَقُ الناسُ، فمِن الناسِ من يَبْلُغُ عَرَقُه إلى كَعَبَيهِ، ومنهم من يَبلُغ إلى نصفِ الساق، ومنهم من يَبلُغ إلى رُكبَتيهِ، ومنهم من يَبلُغ العَجُزَ، ومنهم من يَبلُغ الخاصرةَ، ومنهم من يَبلُغ مَنكِبيَه، ومنهم من يَبلُغ عُنقَه، ومنهم من يَبلُغ وَسَطَ فيه - وأشار بيده فألجَمَها فاه؛ رأيت رسول الله ﷺ هكذا. ومنهم من يُغطِّيه عَرَقُه" وضَرَبَ بيده إشارةً، فَأَمَرَ يدَه فوق رأسه من غير أن يصيبَ الرأسَ دَوْرُ راحتِه (1) ، يمينًا وشمالًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8704 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورج زمین کے بالکل قریب آ جائے گا، لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے، کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہو گا، کوئی آدھی پنڈلی تک پسینے میں ڈوبا ہو گا، بعض گھٹنوں تک اور بعض کمر تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے، کچھ لوگوں کا پسینہ سینے تک اور کچھ کا کندھوں تک ہو گا، بعض کا پسینہ گردن تک ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: کچھ لوگوں کو یہاں تک پسینہ آ رہا ہو گا، اور اس کا پسینہ اس کے منہ میں پڑ رہا ہو گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں دیکھا، کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اپنے پسینے میں ڈوب چکے ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر کے اردگرد گھماتے ہوئے اپنی ہتھیلی کو دائیں اور بائیں گھمایا اور ہاتھ سر کو نہ لگنے دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8919]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8919 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى راحلته. ودَوْر الراحة: باطن الكفّ.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ) محرف ہو کر "راحلته" (اس کی سواری) بن گیا ہے۔ (درست لفظ "راحتہ" ہے)۔ اور "دور الراحۃ" سے مراد ہتھیلی کا اندرونی حصہ ہے۔
(2) إسناده صحيح ابن وهب هو عبد الله، وأبو عشّانة: هو حيُّ بن يُومِن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن وہب سے مراد "عبد اللہ بن وہب" ہیں اور ابو عشانہ کا نام "حی بن یومن" ہے۔
وأخرجه ابن حبان (7329) من طريق حرملة بن يحيى التُّجيبي، عن ابن وهب، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 28/ (17439) من طريق عبد الله بن لَهيعة، عن أبي عشانة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (7329) نے حرملہ بن یحییٰ التجیبی کے طریق سے، جو ابن وہب سے روایت کرتے ہیں، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ نیز امام احمد (28/ 17439) نے عبد اللہ بن لہیعہ کے طریق سے، انہوں نے ابو عشانہ سے، اسی طرح روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديث المقداد بن الأسود عند أحمد 39 / (23813) ومسلم (2864) وغيرهما.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کا "شاہِد" (تائیدی روایت) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو مسند احمد (39/ 23813) اور صحیح مسلم (2864) وغیرہ میں موجود ہے۔