المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
34. فِي جَهَنَّمَ وَادٍ ، فِي ذَلِكَ الْوَادِي بِئْرٌ يُقَالُ لَهُ : هَبْهَبُ
جہنم میں ایک وادی ہے جس میں "ہبہب" نامی ایک کنواں ہے
حدیث نمبر: 8984
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة، عن أبي أيوب، عن عبد الله بن عَمْرو، قوله ﷿: ﴿وَنَادَوْا يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ قال: يُخلِّي عنهم أربعين عامًا لا يُجِيبُهم، ثم أجابهم: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [الزخرف: 77] ، فيقولون: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ [المؤمنون: 107] ، قال: فيُخلِّي عنهم مثل الدنيا، ثم أجابهم: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: 108] ، قال: فوالله ما نَبَسَ القومُ بعد هذه الكلمة، إن كان [إِلَّا] الزَّفِيرُ والشَّهيقُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8770 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8770 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَنَادَوْا يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ ”اور وہ پکاریں گے: اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے۔“ [سورة الزخرف: 77] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فرشتے انہیں چالیس سال تک یونہی چھوڑے رکھیں گے اور کوئی جواب نہیں دیں گے، پھر وہ انہیں جواب دیں گے: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ ”بے شک تم (اسی حال میں) رہنے والے ہو۔“ [سورة الزخرف: 77] تو وہ (جہنمی) کہیں گے: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ ”اے ہمارے رب! ہمیں اس میں سے نکال دے، پھر اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے۔“ [سورة المؤمنون: 107] وہ فرماتے ہیں کہ فرشتے انہیں پھر دنیا کی عمر کے برابر چھوڑے رکھیں گے، پھر انہیں یہ جواب دیں گے: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ ”اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو، اور مجھ سے بات نہ کرو۔“ [سورة المؤمنون: 108] راوی کہتے ہیں: پس اللہ کی قسم! اس بات کے بعد ان لوگوں کے منہ سے کوئی حرف نہیں نکلے گا، بس ان کا کام آہ و زاری اور چیخ و پکار ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8984]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8984]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي» [ترقيم الرساله 8984] [ترقيم الشركة 8876] [ترقيم العلميه 8770]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8984 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي. وقد سلف بهذا الإسناد مختصرًا برقم (3534).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند قوی ہے۔ اور یہ اسی سند کے ساتھ مختصراً پہلے نمبر (3534) پر گزر چکی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "الأسماء والصفات" (480) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے بیہقی نے "الأسماء والصفات" (480) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي أيضًا في "الأسماء" (480) وفي البعث والنشور (591) من طريق أبي العباس محمد بن يعقوب الأصم، عن يحيى بن أبي طالب، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے بیہقی نے بھی "الأسماء" (480) اور "البعث والنشور" (591) میں ابو العباس محمد بن یعقوب الاَصَم کے طریق سے، یحییٰ بن ابی طالب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن المبارك في "الزهد" برواية نعيم بن حماد (319)، وابن أبي شيبة 13/ 152، وهناد في "الزهد" (214)، وابن أبي الدنيا في "صفة النار" (168)، والطبري في "تفسيره" 25/ 99، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 8/ 2509، والطبراني في "المعجم الكبير" (14171)، والبيهقي في "البعث" (592)، والبغوي في "شرح السنة" (4420) من طرق عن سعيد بن أبي عروبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابن مبارک نے "الزہد" میں نعیم بن حماد کی روایت (319) میں، ابن ابی شیبہ (152/13)، ہناد نے "الزہد" (214) میں، ابن ابی الدنیا نے "صفۃ النار" (168) میں، طبری نے اپنی "تفسیر" (99/25) میں، ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" (2509/8) میں، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (14171) میں، بیہقی نے "البعث" (592) میں، اور بغوی نے "شرح السنۃ" (4420) میں سعید بن ابی عروبہ سے مختلف طرق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
قوله: "ما نبس القوم" أي: ما تكلموا ولا تحركت شفاههم بشيء.
📝 نوٹ / توضیح: قول: "مَا نَبَسَ الْقَوْمُ" کا مطلب ہے: وہ نہ بولے اور نہ ہی ان کے ہونٹ کسی چیز کے ساتھ حرکت میں آئے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8984 in Urdu