🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. فضيلة شهادة لا إله إلا الله وثقلها فى الميزان
کلمہ طیبہ کی فضیلت اور اس کا میزان میں وزن
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا الليث بن سعد، حدثني عامر بن يحيى، عن أبي عبد الرحمن المَعَافِري الحُبُلي قال: سمعتُ عبد الله بنَ عمرو بنِ العاص قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله سيُخلِّصُ رجلًا من أُمتي على رؤوس الخلائق يومَ القيامة، فيَنشُرُ عليه تسعةً وتسعين سِجِلًّا، كلُّ سِجلٍّ مثلُ هذا، ثم يقول: أتنكرُ من هذا شيئًا؟ أظَلَمَكَ كَتَبَتي الحافظون؟ فيقول: لا يا ربِّ، فيقول: أفَلَكَ عذرٌ؟ فيقول: لا يا ربِّ، فيقول: بلى، إنَّ لك عندنا حسنةً، وإنه لا ظُلمَ عليك اليومَ، فتُخرَجُ بِطاقةٌ فيها: أشهد أن لا إله إلّا الله، وأشهد أنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، فيقول: يا ربِّ، ما هذه البطاقةُ مع هذه السِّجِلّات؟ فقال: إنك لا تُظلَمُ، قال: فتوضع السجلاتُ في كِفَّةٍ، والبطاقةُ في كِفَّةٍ، فطاشت السجلاتُ وثَقُلَت البطاقةُ، ولا يَثقُلُ مع اسم الله شيءٌ" (1) .
هذا حديث (2) لم يخرَّج في"الصحيحين"، وهو صحيح على شرط مسلم، فقد احتجَّ بأبي عبد الرحمن الحُبُلي عن عبد الله بن عمرو بن العاص، وعامرُ بن يحيى مِصريٌّ ثقة، والليث بن سعد إمام، ويونس المؤدِّب ثقةٌ متَّفَق على إخراجه في"الصحيحين".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 9 - هذا على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو تمام مخلوقات کے سامنے پکار کر الگ فرمائے گا، پھر اس کے سامنے (اس کے اعمال کے) ننانوے رجسٹر پھیلائے جائیں گے، ہر رجسٹر کی لمبائی حدِ نگاہ تک ہوگی، پھر اللہ فرمائے گا: کیا تو ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے ان محافظ لکھاریوں (فرشتوں) نے تجھ پر کوئی ظلم کیا ہے؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! نہیں، پھر اللہ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! نہیں، تب اللہ فرمائے گا: کیوں نہیں، ہمارے پاس تیری ایک نیکی محفوظ ہے، اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا، چنانچہ ایک پرچی نکالی جائے گی جس میں درج ہوگا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں، وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! ان اتنے بڑے رجسٹروں کے مقابلے میں اس چھوٹی سی پرچی کی کیا حقیقت ہے؟ اللہ فرمائے گا: (اطمینان رکھ) تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں اور وہ پرچی دوسرے پلڑے میں رکھی جائے گی، تو (وزن سے) تمام رجسٹر اڑ جائیں گے اور وہ پرچی بھاری ہو جائے گی، اور اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔
یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج صحیحین میں نہیں کی گئی، اور یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے ابوعبدالرحمن الحبلی عن عبداللہ بن عمرو بن عاص سے احتجاج کیا ہے، جبکہ عامر بن یحییٰ ثقہ مصری راوی ہیں، لیث بن سعد امام ہیں، اور یونس المؤدب ایسے ثقہ راوی ہیں جن کی روایات کی تخریج پر صحیحین میں اتفاق پایا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 9]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 9 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو عبد الرحمن الحُبُلي: هو عبد الله بن يزيد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہاں ابو عبد الرحمن الحُبُلی سے مراد "عبد اللہ بن یزید" ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6994)، وابن ماجه (4300)، والترمذي (2639)، وابن حبان (225) من طريقين عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب. وسيأتي من طريق الليث برقم (1958).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 11/ (6994)، ابن ماجہ (4300)، ترمذی (2639)، اور ابن حبان (225) نے لیث بن سعد سے دو مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ یہ روایت آگے نمبر (1958) پر لیث کے طریق سے ہی آئے گی۔
وأخرجه الترمذي بإثره عن قتيبة بن سعيد، عن ابن لَهيعة، عن عامر بن يحيى، به.
📖 حوالہ / مصدر: نیز اسے ترمذی نے اسی کے متصل بعد قتیبہ بن سعید، عن ابن لہیعہ، عن عامر بن یحییٰ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
قوله: "إنَّ الله سيخلِّص رجلًا" أي: يميّزه ويختاره.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "إنَّ الله سيخلِّص رجلًا" کا مطلب ہے: اللہ اسے ممتاز کرے گا اور چن لے گا۔
سِجِلًّا أي: كتابًا كبيرًا. والبطاقة: الرُّقعة الصغيرة.
📝 نوٹ / توضیح: "سِجِلًّا" کا مطلب ہے: بڑی کتاب (دفتر)۔ اور "البطاقۃ" کا مطلب ہے: کاغذ کا چھوٹا ٹکڑا (رقعہ)۔
طاشت السجلات أي: خفَّت.
📝 نوٹ / توضیح: "طاشت السجلات" کا مطلب ہے: رجسٹر (دفتر) ہلکے پڑ گئے۔
(2) في (ب): حديث صحيح.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ب) میں لکھا ہے: "حدیث صحیح"۔