🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. من سنة الصلاة أن يخفي التشهد
نماز کی سنت میں سے ہے کہ تشہد آہستہ پڑھا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 935
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا حفص بن غِيَاث، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: نزلت هذه الآيةُ في التشهُّد ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [الإسراء: 110] (2) .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ آیت: "اور نہ تم اپنی نماز (کی قرأت) بہت بلند آواز میں کرو اور نہ بالکل آہستہ" تشہد کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
اس کی سند صحیح ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 935]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 935 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح الإسناد شاذُّ المتن، فقد انفرد حفص بن غياث في قوله: في التشهد، وخالفه جمع من ثقات أصحاب هشام بن عروة فقالوا فيه: في الدعاء، هكذا أخرجه البخاري (4723) و (6327) و (7526)، ومسلم (447)، والنسائي (11238) من طرق عن هشام بن عروة، به. وهو المحفوظ، وهو - كما قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" - أعمُّ من أن يكون ذلك داخل الصلاة أو خارجها.
⚖️ درجۂ حدیث: سند صحیح ہے مگر متن "شاذ" ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: حفص بن غیاث "تشہد میں (ہاتھ اٹھانے)" کے لفظ میں منفرد ہیں، جبکہ ہشام بن عروہ کے باقی ثقہ شاگردوں (جیسے بخاری، مسلم اور نسائی کے راوی) نے اسے "دعا میں (ہاتھ اٹھانے)" کے الفاظ سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: محفوظ لفظ "دعا" ہے، جو نماز کے اندر اور باہر دونوں کو شامل ہے۔
وأما حديث حفص بن غياث فأخرجه الطبري في "تفسيره" 15/ 187، وابن خزيمة في "صحيحه" (707)، ومن طريقه ابن حجر في "نتائج الأفكار" 2/ 195.
📖 حوالہ / مصدر: حفص بن غیاث کی روایت طبری، ابن خزیمہ (707) اور ابن حجر نے "نتائج الافکار" میں تخریج کی ہے۔