المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
77. نهى عن السد لو أن يغطي الرجل فاه
نماز میں کپڑا لٹکانے اور منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 944
أخبرنا الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا الحُسين بن ذَكْوان، عن سليمان الأحوَل، عن عطاء، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن السَّدْل، وأن يُغطِّيَ الرجلُ فاهُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجا فيه تغطيةَ الرجلِ فاهُ في الصلاة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 931 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجا فيه تغطيةَ الرجلِ فاهُ في الصلاة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 931 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز میں) کپڑا لٹکانے اور آدمی کے اپنا منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے نماز میں منہ ڈھانپنے کے تذکرے کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 944]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے نماز میں منہ ڈھانپنے کے تذکرے کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 944]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 944 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ضعيف، وما وقع في نسخ "المستدرك" هنا من جعل هذا الحديث لحسين بن ذكوان مصغَّرًا وقفة - مع أن الذهبي في "تلخيصه" وصفه بالمعلِّم، وهي صفة حسين - فقد روى هذا الحديث عن الحاكم تلميذُه البيهقي في "السنن الكبرى" 2/ 242 فسمّاه الحَسَن بن ذكوان مكبَّرًا، وكذا سمّاه ابن حجر في "إتحاف المهرة" 15/ 374، وهو المحفوظ، فإنه كذلك وقع مكبَّرًا عند كل من خرّجه من طريق عبد الله بن المبارك وغيره، ومع أنهما من طبقة واحدة - وليس بينهما قَرابة - فإنَّ حُسينًا ثقة مشهور، بينما الآخر الجمهورُ على تضعيفه، وغلبة الظن أنَّ الحديث حديثه، وعليه فإنَّ الحديث ضعيف، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) یہ روایت ضعیف ہے۔ 🔍 علّت / فنی نکتہ: "مستدرک" کے نسخوں میں یہاں نام "حسین" (تصغیر کے ساتھ) واقع ہوا ہے، مگر بیہقی اور ابن حجر نے اسے "الحسن بن ذکوان" (مکبر) لکھا ہے اور یہی محفوظ ہے۔ 👤 راوی پر جرح: حسین ثقہ اور مشہور ہیں، جبکہ حسن بن ذکوان کو جمہور نے ضعیف کہا ہے؛ غالب گمان یہی ہے کہ یہ روایت حسن بن ذکوان ہی کی ہے، لہٰذا یہ ضعیف ہے۔
أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله بن المبارك، وعطاء: هو ابن أبي رباح. ¤ ¤ وأخرجه أبو داود (643) عن محمد بن العلاء وإبراهيم بن موسى، وابن حبان (2353) من طريق حبان بن موسى ثلاثتهم عن عبد الله بن المبارك، عن الحسن بن ذكوان، بهذا الإسناد - إلَّا أنَّ محمد بن العلاء جعله من حديث عطاء عن النبي ﷺ مرسلًا.
🔍 فنی نکتہ: ابوموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان المروزی اور عطاء سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (643) اور ابن حبان (2353) نے بھی روایت کیا ہے، مگر محمد بن علاء نے اسے عطاء سے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (966) من طريق محمد بن راشد التميمي، عن الحسن بن ذكوان، به - ولم يذكر النهي عن السَّدل.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (966) نے محمد بن راشد التمیمی کی سند سے روایت کیا ہے، مگر اس میں کپڑا لٹکانے (سدل) کی ممانعت کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه - دون النهي عن تغطية الرجل فاهُ - أحمد 13/ (7934) و 14/ (8496) و (8551) و (8582)، والترمذي (378)، وابن حبان (2289) من طريق عِسْل بن سفيان، عن عطاء، به. وعِسْل ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (7934/13 وغیرہ)، ترمذی (378) اور ابن حبان (2289) نے عسل بن سفیان عن عطاء کی سند سے روایت کیا ہے، مگر عسل ضعیف راوی ہے۔
وأخرجه كذلك الطبراني في "الأوسط" (1280) من طريق عبد الرحمن بن عثمان البكراوي، عن سعيد بن أبي عروبة، عن عامر الأحول، عن عطاء، به. والبكراوي ضعيف أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے عبدالرحمن بن عثمان البکراوی (جو کہ ضعیف ہے) کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
واختُلف في المراد بالسَّدل هنا على ما هو مبيَّن في تعليقنا على "مسند أحمد" و"سنن أبي داود"، فراجعه هناك.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: یہاں "سدل" (کپڑا لٹکانے) سے کیا مراد ہے؟ اس کی تفصیل "مسند احمد" اور "سنن ابی داؤد" کے حواشی میں دیکھیں۔
(1) وكذا لم يُخرجا النهي عن سدل الثوب في الصلاة.
🔍 فنی نکتہ: (1) اسی طرح شیخین (بخاری و مسلم) نے نماز میں کپڑا لٹکانے کی ممانعت کی تخریج نہیں کی۔