🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. إن الله بعث إلينا محمدا - صلى الله عليه وآله وسلم - ولا نعلم شيئا فإنما نفعل كما رأينا محمدا يفعل
اللہ نے ہماری طرف محمد ﷺ کو بھیجا جبکہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے، پس ہم وہی کرتے ہیں جو ہم نے محمد ﷺ کو کرتے دیکھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 959
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَرِيك، حدثنا يحيى بن بُكَير، حدثني الليث، عن ابن شِهاب، عن عبد الله بن أبي بكر بن عبد الرحمن، عن أُميَّة بن عبد الله بن خالد، أنه قال لعبد الله بن عمر: إنا نَجِدُ صلاةَ الحَضَر وصلاةَ الخوف في القرآن، ولا نجدُ صلاةَ السَّفر في القرآن! فقال عبد الله: يا ابنَ أخي، إنَّ الله بَعَثَ إلينا محمدًا ﷺ ولا نَعلمُ شيئًا، فإنما نفعلُ كما رأَينا محمدًا يفعلُ (2) .
هذا حديث رواتُه مدنيُّون ثِقات، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 946 - رواته ثقات مدنيون
امیہ بن عبداللہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہمیں قرآن میں مقیم کی نماز اور خوف کی نماز کا ذکر تو ملتا ہے لیکن سفر کی نماز کا ذکر نہیں ملتا (کہ اسے قصر کرنا ہے)؟ سیدنا عبداللہ بن عمر نے فرمایا: اے بھتیجے! اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف بھیجا جبکہ ہم کچھ نہیں جانتے تھے، ہم تو بس وہی کرتے ہیں جو ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
اس کے تمام راوی مدنی اور ثقہ ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 959]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 959 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند قوی ہے۔
وأخرجه أحمد 9/ (5683)، وابن ماجه (1066)، والنسائي (1905)، وابن حبان (1451) ¤ ¤ و (2735) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (5683/9)، ابن ماجہ (1066)، نسائی (1905) اور ابن حبان (1451، 2735) نے لیث بن سعد کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 9/ (5333) من طريق مالك، و 10/ (6353) من طريق معمر، كلاهما عن ابن شهاب الزهري، به. غير أنَّ مالكًا لم يسمِّ أمية بن عبد الله، وإنما قال: عن رجل من آل خالد بن سعيد، وأسقط من الإسناد عبد الله بن أبي بكر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (5333/9) نے امام مالک سے اور نمبر (6353/10) پر معمر سے روایت کیا ہے۔ ⚠️ سندی اختلاف: امام مالک نے امیہ بن عبداللہ کا نام لینے کے بجائے "آلِ خالد بن سعید کا ایک آدمی" کہا اور سند سے عبداللہ بن ابی بکر کا نام گرا دیا۔