🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
88. صلى رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - على بساط
رسولُ اللہ ﷺ نے بساط پر نماز ادا فرمائی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 966
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا ابن جُرَيج، عن محمد بن عبَّاد بن جعفر، عن أبي سلمة بن سفيان، عن عبد الله بن السائب قال: حضرتُ رسولَ الله ﷺ عامَ الفتح فصلَّى الصبحَ فخَلَعَ نَعلَيهِ فوضعهما عن يسارِه (1) .
هذا حديث يُعرَف بمحمد بن عبَّاد بن جعفر، أخرجتُه شاهدًا، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 953 - أخرجته شاهدا
سیدنا عبداللہ بن السائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ دیے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے، شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 966]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 966 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، وابن جريج قد صرَّح بالسماع عند غير المصنف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، اور ابن جریج نے دیگر مصادر میں سماع کی تصریح (صاف بیان) کر رکھی ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15392) و (15397)، وأبو داود (648)، وابن ماجه (1431)، والنسائي (854) و (1081)، وابن حبان (2189) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد. وقرن هوذةُ بن خليفة عند أحمد في الموضع الثاني وابن حبان بأبي سلمة بن سفيان عبدَ الله بنَ عمرو - وليس هو ابنَ العاص بل هو راوٍ آخر -.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (15392/24 وغیرہ)، ابوداؤد (648)، ابن ماجہ (1431)، نسائی (854، 1081) اور ابن حبان (2189) نے ابن جریج کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: احمد اور ابن حبان کی روایت میں ہوذہ بن خلیفہ نے ابوسلمہ بن سفیان کے ساتھ عبداللہ بن عمرو کو بھی ملایا ہے (یہ صحابی ابن عاص نہیں بلکہ ایک اور راوی ہیں)۔