🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
90. إذا صلى أحدكم فليخلع نعليه بين رجليه أو ليصل فيهما
جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو یا تو جوتے اتار کر اپنے پاؤں کے درمیان رکھ دے یا انہی کے ساتھ نماز پڑھ لے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 970
حدثنا يوسف بن يعقوب السُّوسِي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا عبد الوهاب بن نَجْدة الحَوْطي، حدثنا شعيب بن إسحاق وبَقيَّة قالا: حدثنا الأوزاعي، حدثني محمد بن الوليد، عن سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال:"إذا صلَّى أحدُكم فليَخلَعْ نَعلَيه … (3) بين رجلَيه، وليُصَلِّ (4) فيهما" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 957 - على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھ لے، یا ان میں ہی نماز پڑھے۔" [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 970]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 970 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) وقع هنا بياض في النسخ الخطية، وفي "تلخيص الذهبي": "فخلع نعليه فلا يضعهما أمامه ولا عن يمينه، وليضعهما بين رجليه … "، وفي سائر المصادر التي خرجته من طريق الأوزاعي: "فلا يؤذ بهما أحدًا وليجعلهما … ".
📝 (توضیح): (3) یہاں خطی نسخوں میں جگہ خالی تھی، ذہبی کی "تلخیص" میں الفاظ ہیں: "پس اپنے جوتے اتارے تو انہیں اپنے سامنے نہ رکھے نہ دائیں جانب، بلکہ قدموں کے درمیان رکھے..."۔ اوزاعی کی دیگر روایات میں ہے: "جوتے سے کسی کو تکلیف نہ دے بلکہ انہیں..."۔
(4) هكذا في نسخنا الخطية، وفي مصادر التخريج: "أو ليصلِّ" وهو أصح.
🔍 فنی نکتہ: (4) نسخوں میں "او لیصل" ہے، مگر دیگر مصادر کے مطابق "او لیصلِّ" زیادہ درست ہے۔
(5) إسناده صحيح، وبقية - وهو ابن الوليد - متكلَّم فيه لكنه هنا متابَع. محمد بن الوليد: هو الزُّبيدي.
⚖️ درجۂ حدیث: (5) اس کی سند صحیح ہے۔ بقیہ بن الولید پر اگرچہ کلام ہے مگر یہاں ان کی متابعت موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: محمد بن ولید سے مراد الزبیدی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (655) عن عبد الوهاب بن نجدة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (655) نے عبدالوہاب بن نجدہ کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (2182) من طريق بشر بن بكر، عن الأوزاعي، به. وانظر (965).
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (2182) نے بشر بن بکر عن الاوزاعی کی سند سے روایت کیا ہے۔ نمبر (965) دیکھیں۔