المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
97. لا غرار فى الصلاة ولا التسليم
نماز اور سلام میں کمی بیشی درست نہیں۔
حدیث نمبر: 986
حدثنا أبو بكر محمد أحمد بن بن بالَوَيهِ وأبو بكر أحمد بن جعفر القَطِيعي، قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن ابن مَهدِي، حدثنا سفيان، عن أبي مالك الأشجَعي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"لا غِرَارَ في صلاةٍ ولا تسليم" (2) . قال أحمد بن حنبل: فيما أرى أنه أراد أن لا تُسلِّمَ ويُسلَّمَ عليك، وتغريرُ الرجلِ بصلاته: أن يُسلِّم وهو فيها شاكٌّ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه معاويةُ بن هشام عن الثوري وشكَّ في رفعه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 972 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه معاويةُ بن هشام عن الثوري وشكَّ في رفعه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 972 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نہ نماز میں دھوکہ (غلطی یا شک) ہے اور نہ سلام میں۔" امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں اس طرح سلام نہ پھیرا جائے کہ نمازی شک میں ہو کہ نماز پوری ہوئی ہے یا نہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 986]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 986]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 986 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. وهو في "مسند أحمد" 16/ (9936)، وعن أحمد أخرجه أيضًا أبو داود (928).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (9936/16) میں ہے اور وہیں سے ابوداؤد (928) نے بھی روایت کیا ہے۔
سفيان: هو الثوري، وأبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق، وأبو حازم: هو سلمان الأشجعي.
🔍 فنی نکتہ: سفیان سے مراد ثوری، ابومالک سے مراد سعد بن طارق اور ابوحازم سے مراد سلمان الاشجعی ہیں۔
(3) وأوضح من هذا في معنى الحديث ما قاله الإمام الخطّابي في "معالم السنن" 1/ 219، ونقله عنه البغوي في "شرح السنة" 12/ 257: أصل الغِرار: نقصان لبن الناقة، يقال: غارت الناقة غِرارًا، فهي مغار: إذا نقص لبنها، فمعنى قوله: "لا غرار"، أي: لا نقصان في التسليم، ومعناه: أن تَرُدَّ ¤ ¤ كما يُسلَّم عليك، وافيًا لا نقص فيه، مثل أن يقال: السلامُ عليكم ورحمة الله، فيقول: وعليكم السلام ورحمة الله، ولا تقتصر على أن يقول: السلام عليكم، أو عليكم حسب، ولا ترد التحية كما سمعتَها من صاحبك، فتبخسه حقَّه من جواب الكلمة.
📝 (توضیح): (3) امام خطابی نے فرمایا کہ "غرار" کا اصل معنی اونٹنی کے دودھ کی کمی ہے؛ یہاں مراد سلام میں کمی نہ کرنا ہے، یعنی جیسے سلام کیا جائے ویسے ہی پورا جواب دیا جائے (مثلاً السلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں صرف السلام علیکم نہ کہا جائے)۔
وأما الغرار في الصلاة، فهو على وجهين: أحدهما: أن لا يتم ركوعه وسجوده، والآخر: أن يَشُكَّ هل صلَّى ثلاثًا أو أربعًا؟ فيأخذ بالأكثر ويترك اليقين، وينصرف بالشك.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: نماز میں "غرار" کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ رکوع و سجود مکمل نہ کیے جائیں، دوسری یہ کہ شک ہو جائے کہ تین پڑھی ہیں یا چار، اور وہ یقین کے بجائے شک پر نماز ختم کر دے۔