سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب : الخشوع في الصلاة
باب: نماز میں خشوع و خضوع کا بیان۔
حدیث نمبر: 1046
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ، فَإِذَا رَكَعَ قَالَ: هَكَذَا يَنْظُرُ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ سورة الحجر آية 24 فِي شَأْنِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ”ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو“ (سورۃ الحجر: ۲۴) نازل فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1046]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایک انتہائی خوش شکل خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ کچھ حضرات اس لیے اگلی صف میں کھڑے ہونے کا اہتمام کرتے کہ اس خاتون پر نظر نہ پڑے جبکہ بعض افراد (جان بوجھ کر) پیچھے رہ جاتے تاکہ پچھلی صف میں کھڑے ہوں۔ ان میں سے جب کوئی رکوع کرتا تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اس طرح دیکھتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ﴾ [سورة الحجر: 24] ”تم میں سے جو لوگ آگے بڑھنے والے ہیں، ہم انہیں بھی جانتے ہیں اور جو پیچھے رہنے والے ہیں وہ بھی ہمیں معلوم ہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/التفسیر سورة 15/1 (3122)، سنن النسائی/الإمامة 62 (871)، (تحفة الأشراف: 5364)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/305) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3122) نسائي (871)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
إسناده ضعيف
ترمذي (3122) نسائي (871)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1046 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1046
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ روایت ضعیف ہے۔
اسی لئے یہ سارا واقعہ ہی بے بنیاد ہے۔
(2)
ہر عمل میں نیت کا صحیح ہونا بہت ضروری ہے۔
(3)
عورتوں کا فرض نماز باجماعت ادا کرنے کےلئے مسجد میں آنا جائز ہے۔
(3)
اس آیت کو ماقبل اور ما بعد سے ملا کر پڑھا جائے تو آیات کا مفہوم یوں بنتا ہے۔
”اور بلاشبہ ہم ہی موت اور زندگی دیتے ہیں۔
اور بے شک ہم ہی (بالآخر ہرچیز کے اور ہر شخص کے)
وارث ہیں۔
اور یقیناً تم سے آگے بڑھنے والے بھی ہمارے علم میں ہیں۔
اور پیچھے ہٹنے والے بھیں آپ کارب ان (سب)
کوجمع کرے گا۔
وہ یقیناً بڑی حکمتوں والا اور بڑے علم والا ہے۔ (الحجر: 23 تا 25)
اس سیاق کی روشنی میں آگے بڑھنے والوں اور پیچھے ہٹنے (یا پیچھے رہ جانے)
والوں کا مطلب پہلے فوت ہوجانے والے اور ان کے پسماندگان بھی ہوسکتا ہے۔
اور نیک کاموں میں سبقت لے جانے والے اور کوتاہی اور سستی سے کام لینے والے بھی۔
فوائد و مسائل:
(1)
یہ روایت ضعیف ہے۔
اسی لئے یہ سارا واقعہ ہی بے بنیاد ہے۔
(2)
ہر عمل میں نیت کا صحیح ہونا بہت ضروری ہے۔
(3)
عورتوں کا فرض نماز باجماعت ادا کرنے کےلئے مسجد میں آنا جائز ہے۔
(3)
اس آیت کو ماقبل اور ما بعد سے ملا کر پڑھا جائے تو آیات کا مفہوم یوں بنتا ہے۔
”اور بلاشبہ ہم ہی موت اور زندگی دیتے ہیں۔
اور بے شک ہم ہی (بالآخر ہرچیز کے اور ہر شخص کے)
وارث ہیں۔
اور یقیناً تم سے آگے بڑھنے والے بھی ہمارے علم میں ہیں۔
اور پیچھے ہٹنے والے بھیں آپ کارب ان (سب)
کوجمع کرے گا۔
وہ یقیناً بڑی حکمتوں والا اور بڑے علم والا ہے۔ (الحجر: 23 تا 25)
اس سیاق کی روشنی میں آگے بڑھنے والوں اور پیچھے ہٹنے (یا پیچھے رہ جانے)
والوں کا مطلب پہلے فوت ہوجانے والے اور ان کے پسماندگان بھی ہوسکتا ہے۔
اور نیک کاموں میں سبقت لے جانے والے اور کوتاہی اور سستی سے کام لینے والے بھی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1046]
Sunan Ibn Majah Hadith 1046 in Urdu
أوس بن عبد الله الربعي ← عبد الله بن العباس القرشي