یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب في فرض الجمعة
باب: جمعہ کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1082
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ، اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، وَدَعَا لَهُ، فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي: وَاللَّهِ إِنَّ ذَا لَعَجْزٌ إِنِّي أَسْمَعُهُ كُلَّمَا سَمِعَ أَذَانَ الْجُمُعَةِ يَسْتَغْفِرُ لِأَبِي أُمَامَةَ، وَيُصَلِّي عَلَيْهِ، وَلَا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ لِمَ هُوَ؟ فَخَرَجْتُ بِهِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ اسْتَغْفَرَ كَمَا كَانَ يَفْعَلُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتَاهُ، أَرَأَيْتَكَ صَلَاتَكَ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ بِالْجُمُعَةِ لِمَ هُوَ؟، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فِي نَقِيعِ الْخَضَمَاتِ فِي هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ، قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ: أَرْبَعِينَ رَجُلًا".
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی بینائی چلی گئی تو میں انہیں پکڑ کر لے جایا کرتا تھا، جب میں انہیں نماز جمعہ کے لیے لے کر نکلتا اور وہ اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے، میں ایک زمانہ تک ان سے یہی سنتا رہا، پھر ایک روز میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اللہ کی قسم یہ تو بے وقوفی ہے کہ میں اتنے عرصے سے ہر جمعہ یہ بات سن رہا ہوں کہ جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے ہیں، اور ابھی تک میں نے ان سے اس کی وجہ نہیں پوچھی، چنانچہ ایک روز معمول کے مطابق انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا، جب انہوں نے اذان سنی تو حسب معمول (اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے) مغفرت کی دعا کی تو میں نے ان سے کہا: ابا جان! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرماتے ہیں، آخر اس کی وجہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسعد ہی نے ہمیں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے قبیلہ بنی بیاضہ کے ہموار میدان «نقیع الخضمات» میں نماز جمعہ پڑھائی، میں نے سوال کیا: اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کیا تھی؟ کہا: ہم چالیس آدمی تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1082]
حضرت عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب میرے والد کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی تو میں ان کا رہبر ہوا کرتا تھا۔ میں جب بھی انہیں جمعہ کے لیے لے جاتا تو وہ (جمعہ کی) اذان سن کر حضرت ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے مغفرت اور دعائے خیر فرماتے۔ میں کچھ عرصہ ان کی زبان سے مسلسل یہی بات سنتا رہا۔ آخر میں نے دل میں (اپنے آپ سے) کہا: یہ تو کم عقلی کی بات ہے کہ میں ان سے اس کی وجہ دریافت نہ کروں، حالانکہ میں ہر جمعہ کو جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے ہیں، انہیں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے مغفرت اور دعائے خیر کرتے سنتا ہوں۔ (آخرکار ایک بار) میں انہیں حسبِ معمول نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے لے کر چلا، جب انہیں اذان کی آواز سنائی دی تو انہوں نے اپنے معمول کے مطابق (حضرت ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے حق میں) دعا کی۔ میں نے عرض کیا: ”ابا جان! آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو دعائیں دیتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”پیارے بیٹے! سب سے پہلے انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تھی، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ سے (ہجرت کر کے مدینہ) تشریف نہیں لائے تھے۔ انہوں نے یہ نماز حرہ بنی بیاضہ میں نقیع الخضمات کے میدان میں پڑھائی تھی۔“ میں نے کہا: ”اس دن آپ کتنے افراد (اس نماز میں شریک) تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”چالیس آدمی تھے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 216 (1069)، (تحفة الأشراف: 11149) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: بظاہر یہاں ایک اشکال ہوتا ہے کہ جمعہ تو مدینہ میں فرض ہوا، پھر اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے کیونکر جمعہ ادا کیا، اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ جمعہ مکہ ہی میں فرض ہو گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے ڈر سے اس کو ادا نہ کر سکتے تھے، اور مدینہ میں اس کی فرضیت قرآن میں اتری، اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جنہوں نے جمعہ کے لئے مسلمان حاکم کی شرط رکھی ہے، کیونکہ مدینہ طیبہ میں اس وقت کوئی مسلمان حاکم نہ تھا، اس کے باوجود اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمعہ ادا کیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1082 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1082
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز جمعہ مشہور قول کے مطابق ہجرت کے بعد فرض ہوئی۔
اس صورت میں ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ میں حضرت اسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نماز جمعہ پڑھانا محض ایک تبلیغی پروگرام کی حیثیت رکھتا تھا۔
کہ ہفتے میں ایک دن نماز ظہر کے بعد کچھ وعظ ونصیحت کردی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اس عمل کو پسند فرما کر ہجرت نبوی کے زمانہ میں اسے فرض کردیا۔
(2)
”حُرَّہ“ مدینہ منورہ سے باہر پتھریلا میدانی علاقہ ہے۔
غالباً شہر کے اندر کوئی مناسبت مقام ایسا نہیں ہوگا جہاں مسلمان مشرکوں کی مداخلت سے محفوظ رہ کر تبلیغی اجتماع منعقد کرسکیں۔
(3)
قوم کے ایسے افراد کی خوبیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
جن کی وجہ سے مسلمانوں کو دینی یا اجتماعی فائدہ ہوا ہو۔
اور انھیں دعائے خیر سے یاد کرنا چاہیے۔
(4)
چالیس افراد کے شریک ہونے سے یہ سمجھنا درست نہیں کہ جمعے کے لئے چالیس افراد کی موجودگی ضروری ہے۔
بلکہ غیر مسلموں کے کسی شہر میں جب تین چار بھی مسلمان موجود ہوں۔
تو انھیں اپنی اجتماعیت قائم رکھنے کےلئے باجماعت نماز اور جمعے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اگرچہ جمعے اور جماعت کے لئے مسجد موجود نہ ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
نماز جمعہ مشہور قول کے مطابق ہجرت کے بعد فرض ہوئی۔
اس صورت میں ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ میں حضرت اسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نماز جمعہ پڑھانا محض ایک تبلیغی پروگرام کی حیثیت رکھتا تھا۔
کہ ہفتے میں ایک دن نماز ظہر کے بعد کچھ وعظ ونصیحت کردی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اس عمل کو پسند فرما کر ہجرت نبوی کے زمانہ میں اسے فرض کردیا۔
(2)
”حُرَّہ“ مدینہ منورہ سے باہر پتھریلا میدانی علاقہ ہے۔
غالباً شہر کے اندر کوئی مناسبت مقام ایسا نہیں ہوگا جہاں مسلمان مشرکوں کی مداخلت سے محفوظ رہ کر تبلیغی اجتماع منعقد کرسکیں۔
(3)
قوم کے ایسے افراد کی خوبیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
جن کی وجہ سے مسلمانوں کو دینی یا اجتماعی فائدہ ہوا ہو۔
اور انھیں دعائے خیر سے یاد کرنا چاہیے۔
(4)
چالیس افراد کے شریک ہونے سے یہ سمجھنا درست نہیں کہ جمعے کے لئے چالیس افراد کی موجودگی ضروری ہے۔
بلکہ غیر مسلموں کے کسی شہر میں جب تین چار بھی مسلمان موجود ہوں۔
تو انھیں اپنی اجتماعیت قائم رکھنے کےلئے باجماعت نماز اور جمعے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اگرچہ جمعے اور جماعت کے لئے مسجد موجود نہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1082]
Sunan Ibn Majah Hadith 1082 in Urdu
عبد الرحمن بن كعب الأنصاري ← كعب بن مالك الأنصاري