🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب : الظهار
باب: ظہار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2063
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : تَبَارَكَ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَيْءٍ، إِنِّي لَأَسْمَعُ كَلَامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ وَيَخْفَى عَلَيَّ بَعْضُهُ وَهِيَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَ شَبَابِي، وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي، وَانْقَطَعَ وَلَدِي ظَاهَرَ مِنِّي اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرَائِيلُ بِهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ سورة المجادلة آية 1.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا بابرکت ہے وہ ذات جو ہر چیز کو سنتی ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی بات سن رہی تھی، کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھیں کہ میرا شوہر میری جوانی کھا گیا، میں اس کی اولاد جنتی رہی، جب میں بوڑھی ہو گئی اور ولادت کا سلسلہ منقطع ہو گیا، تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ! میں تجھ ہی سے شکوہ کرتی ہوں، وہ ابھی وہاں سے ہٹی بھی نہیں تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیتیں لے کر اترے: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله» (سورة المجادلة: 1) اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2063]
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ بڑی برکتوں والا ہے جو سب کچھ سنتا ہے۔ جب حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خاوند (حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ) کی شکایت کر رہی تھیں تو میں بھی ان کی باتیں سن رہی تھی لیکن کچھ باتیں (قریب ہونے کے باوجود) میری سمجھ میں نہ آتی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں: اے اللہ کے رسول! (میرا خاوند) میری جوانی کھا گیا، میں نے اس کے لیے (بچے جن جن کر) پیٹ خالی کر دیا۔ اب جب کہ میں بوڑھی ہو گئی ہوں اور مجھے اولاد ہونا بند ہو گئی ہے تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا ہے۔ یا اللہ! میں تجھی سے شکایت کرتی ہوں۔ وہ ابھی وہیں تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیات لے کر نازل ہو گئے: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة المجادلة: 1] یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی... [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التوحید 9 (7385 تعلیقاً)، سنن النسائی/الطلاق 33 (3490)، (تحفة الأشراف: 16332)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/46) (دیکھئے: حدیث نمبر: 188) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اپنی مصیبت اور دکھ کا شکوہ کر رہی تھی، تب اللہ تعالی نے یہ حکم اتارا، اور ظہار کا کفارہ بیان فرمایا، اور عورت کی داد رسی کی شوہر نے کفارہ دے کر پھر اس کو بیوی کی طرح سمجھا، اور اس سے صحبت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥تميم بن سلمة الخزاعي
Newتميم بن سلمة الخزاعي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← تميم بن سلمة الخزاعي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الملك بن معن المسعودي، أبو عبيدة
Newعبد الملك بن معن المسعودي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن أبي عبيدة المسعودي
Newمحمد بن أبي عبيدة المسعودي ← عبد الملك بن معن المسعودي
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن أبي عبيدة المسعودي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2063 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2063
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالی سننے کی صفت سے متصف ہے اور اس کی سماعت بندوں کی طرح محدود نہیں بلکہ لامحدود ہے۔

(2)
  حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بڑھاپے کا ذکر اس لیے کیا کہ اگر وہ جوان ہوتیں تو ان کےلیے دوسرا نکاح کرلینا آسان ہوتا، کوئی نا کوئی اس کی جوانی کی پیش نظر یا اولاد کی امید میں ان سے نکاح کرلیتا، اس طرح ان کےلیے بچوں کی دیکھ بھال آسان ہوجاتی۔

(3)
  مصیبت میں اللہ ہی سے دعا کرنی چاہیے۔
اللہ تعالی تمام مشکلات کا حل کرنے والا ہے۔

(4)
  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سےکوئی شرعی حکم جاری نہیں کرسکتے تھے بلکہ اللہ کی طرف سے جو حکم نازل ہوتا تھا اسی پر عمل کرتے اور کرواتے تھے، اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿ قُل ما يَكونُ لى أَن أُبَدِّلَهُ مِن تِلقائِ نَفسى إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحى إِلَىَّ إِنّى أَخافُ إِن عَصَيتُ رَ‌بّى عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ﴾  (یونس: 10/ 15)
کہہ دیجئے! مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس (قرآن)
میں ترمیم کروں میں تو اسی کی پیروی کروں گا جو کچھ میرے پاس وحی کے ذریعے سے پہنچا ہے۔
اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بھی ایک بڑے دن کے عذاب کاخوف ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2063]

Sunan Ibn Majah Hadith 2063 in Urdu