سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : الرجل يستقي كل دلو بتمرة ويشترط جلدة
باب: ایک ڈول پانی کھینچنے پر ایک عمدہ کھجور لینے کی شرط لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" كُنْتُ أَدْلُو الدَّلْوَ بِتَمْرَةٍ وَأَشْتَرِطُ أَنَّهَا جَلْدَةٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک کھجور کے بدلے ایک ڈول پانی نکالتا تھا، اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ کھجور خشک اور عمدہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10325، ومصباح الزجاجة: 864) (حسن)» (سند میں ابواسحاق مدلس و مختلط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 5/ 314- 315 تحت رقم: 91 14)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف
سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥عمرو بن عبد الله الهمداني، أبو حية عمرو بن عبد الله الهمداني ← علي بن أبي طالب الهاشمي | مقبول | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← عمرو بن عبد الله الهمداني | ثقة مكثر | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2447 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2447
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قرار دیا ہےجبکہ بعض محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے بنا بریں کام شروع کرنے سے پہلے اجرت کا تعین کرلینا چاہیے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے (الأرواء للألبانی: 5؍313، 315)
(2)
مزدوری کے کام یا اس کی اجرت کے بارے میں مناسب شرطیں مقرر کر لینا جائز ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کوہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قرار دیا ہےجبکہ بعض محققین نے اسے حسن قرار دیا ہے بنا بریں کام شروع کرنے سے پہلے اجرت کا تعین کرلینا چاہیے۔
تفصیل کےلیے دیکھیے (الأرواء للألبانی: 5؍313، 315)
(2)
مزدوری کے کام یا اس کی اجرت کے بارے میں مناسب شرطیں مقرر کر لینا جائز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2447]
عمرو بن عبد الله الهمداني ← علي بن أبي طالب الهاشمي