🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : من قتل له قتيل فهو بالخيار بين إحدى ثلاث
باب: مقتول کے ورثاء کو تین باتوں میں سے کسی ایک بات کا اختیار ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2623
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، ح وَحَدَّثَنَا أبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ جميعا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ، أَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ وَاسْمُهُ سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ وَالْخَبْلُ الْجُرْحُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ، فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ: أَنْ يَقْتُلَ أَوْ يَعْفُوَ أَوْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ، فَمَنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَعَادَ، فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا".
ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کا خون کر دیا جائے، یا اس کو زخمی کر دیا جائے، اسے (یا اس کے وارث کو) تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے، اگر وہ چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو، تین باتیں یہ ہیں: یا تو قاتل کو قصاص میں قتل کرے، یا معاف کر دے، یا خون بہا (دیت) لے لے، پھر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کو کرنے کے بعد اگر بدلہ لینے کی بات کرے، تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2623]
ابو شریح (خویلد بن عمرو) خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو قتل یا زخم کی مصیبت پہنچے تو اسے تین چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ اگر وہ چوتھی چیز حاصل کرنا چاہے تو اس کے ہاتھ پکڑ لو (منع کر دو) وہ (قصاص کے طور پر مجرم کو) قتل کر لے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کر لے۔ جس نے ان میں سے کوئی کام کیا، پھر دوسرا کام بھی کر دیا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، اس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4496)، (تحفة الأشراف: 12059)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/31)، سنن الدارمی/الدیات 1 (2396) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں ابن أبی العوجاء ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4496)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خويلد بن شريح الخزاعي، أبو شريحصحابي
👤←👥سفيان بن أبي العوجاء السلمي، أبو ليلى
Newسفيان بن أبي العوجاء السلمي ← خويلد بن شريح الخزاعي
ضعيف الحديث
👤←👥الحارث بن فضيل الخطمي، أبو عبد الله
Newالحارث بن فضيل الخطمي ← سفيان بن أبي العوجاء السلمي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← الحارث بن فضيل الخطمي
صدوق مدلس
👤←👥عبد الرحيم بن سليمان الكناني، أبو علي
Newعبد الرحيم بن سليمان الكناني ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← عبد الرحيم بن سليمان الكناني
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عثمان بن أبي شيبة العبسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← ابن أبي شيبة العبسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← ابن أبي شيبة العبسي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2623 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2623
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ روایت کے بعض حصے کے شواہد مسند احمد (4؍32)
میں حسن درجے کے ہیں، اس کے بعد انہوں نے آگے آنے والی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے جو کہ صحیح ہے، اس میں دو باتوں (بدلے میں قتل کرنے یا دیت دینے)
کا ذکر موجود ہے، لہٰذا دو باتیں صحیح روایت سے ثابت ہوئیں اور تیسری بات معاف کرنا اس کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب بھی دلائی ہے۔
بنابریں مذکورہ حدیث میں جن تین چیزوں کا ذکر ہے وہ دیگر شواہد اور قرائن کی بنا پر درست ہیں۔
واللہ اعلم۔

(2)
قتل یا زخم کی مصیبت کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی رشتہ دار قتل ہو جائے، یا خود اسے زخمی کر دیا جائے، دونوں صورتوں میں اسے قصاص لینے کا حق بھی ہے، دیت بھی لے سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے۔
یہ مسئلہ دوسرے دلائل سے ثابت ہے۔

(3)
چوتھی چیز کا مطلب غیرقانونی مطالبہ ہے، مثلاً:
پہلے دیت وصول کرلے، پھر موقع پا کر قاتل کو قتل کردے۔
یہ بہت بڑا جرم ہے، ایسا شخص خود قتل کا مجرم قرار پائے گا اور شرعی قانون کے مطابق سزا کا مستحق ہوگا۔
ایک کا م کرکے دوسرا کام کرنے کا بھی یہی مطلب ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2623]

Sunan Ibn Majah Hadith 2623 in Urdu