سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : الكلالة
باب: کلالہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2727
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ بْنِ شَرَاحِيلَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ :" ثَلَاثٌ لَأَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيَّنَهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا الْكَلَالَةُ وَالرِّبَا وَالْخِلَافَةُ".
مرہ بن شراحیل کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بیان فرما دیتے تو میرے لیے یہ دنیا و مافیہا سے زیادہ پسندیدہ ہوتا، یعنی کللہ، سود اور خلافت۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10640، ومصباح الزجاجة: 967) (ضعیف)» (سند میں مرہ بن شراحیل اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مرة بن شراحيل عن عمر مرسل كما قال أبو حاتم الرازي (المراسيل ص 208)
وأصل الحديث متفق عليه (البخاري: 5588،مسلم: 3032) ولم يذكرا الخلافة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 477
إسناده ضعيف
مرة بن شراحيل عن عمر مرسل كما قال أبو حاتم الرازي (المراسيل ص 208)
وأصل الحديث متفق عليه (البخاري: 5588،مسلم: 3032) ولم يذكرا الخلافة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 477
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥مرة الطيب، أبو إسماعيل مرة الطيب ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة | |
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن عمرو بن مرة المرادي ← مرة الطيب | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عمرو بن مرة المرادي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ صاحب تصانيف | |
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن علي بن محمد الكوفي ← ابن أبي شيبة العبسي | ثقة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2727 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2727
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ محققین نے کہا ہے، تاہم بخاری و مسلم میں حضرت عمربن خطاب ؓ سے کلالہ اور سود کا ذکر ملتا ہے، خلافت کا نہیں، لہٰذا مذکورہ روایت بیان کردہ دوباتوں کی توثیق و تائید صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے ہوجاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت ”خلافت“ کے ذکر کے علاوہ قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: مذکورہ حدیث کی تحقیق و تخریج۔
(2)
کلالہ کے بھائی بہن تین طرح کے ہوسکتے ہیں:
(ا)
حقیقی
(ب)
علاتی
(ج)
اخیافی۔
پہلے دو طرح کے بھائی بہنوں کا حکم سورۂ نساء کی آیت176 میں بیان کردیا گیا ہے اور تیسری قسم کے بہن بھائیوں کا حکم سورۂ نساء کی آیت 12میں بیان کردیا گیا ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت ضعیف ہے جیسا کہ محققین نے کہا ہے، تاہم بخاری و مسلم میں حضرت عمربن خطاب ؓ سے کلالہ اور سود کا ذکر ملتا ہے، خلافت کا نہیں، لہٰذا مذکورہ روایت بیان کردہ دوباتوں کی توثیق و تائید صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات سے ہوجاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت ”خلافت“ کے ذکر کے علاوہ قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: مذکورہ حدیث کی تحقیق و تخریج۔
(2)
کلالہ کے بھائی بہن تین طرح کے ہوسکتے ہیں:
(ا)
حقیقی
(ب)
علاتی
(ج)
اخیافی۔
پہلے دو طرح کے بھائی بہنوں کا حکم سورۂ نساء کی آیت176 میں بیان کردیا گیا ہے اور تیسری قسم کے بہن بھائیوں کا حکم سورۂ نساء کی آیت 12میں بیان کردیا گیا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2727]
مرة الطيب ← عمر بن الخطاب العدوي