🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب : خبز الشعير
باب: جو کی روٹی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3345
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَا فِي بَيْتِي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ , إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي , فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، اور حال یہ تھا کہ میرے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہ تھی جسے کوئی جگر والا کھاتا، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میری الماری میں پڑے تھے، میں انہیں میں سے کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ ایک مدت دراز تک چلتے رہے، پھر میں نے انہیں تولا تو وہ ختم ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3345]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو میرے گھر میں انسان کے کھانے کی کوئی چیز نہ تھی مگر تھوڑے سے جو میرے ٹانڈ پر پڑے ہوئے تھے۔ میں اس میں سے (لے لے کر) کھاتی رہی حتی کہ کافی مدت گزر گئی۔ (آخر) میں نے انہیں ماپ لیا تو وہ (جلد ہی) ختم ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 3 (3097)، الرقاق 16 (6454)، صحیح مسلم/الزہد (2970)، (تحفة الأشراف: 15986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/108، 277) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3345 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3345
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
«رف» ٹانڈ کی وضاحت امام ابن اثیر رحمہ اللہ نے یوں کی ہے:
دیوار کے پہلو میں زمین سے بلند ایک لکڑی جس پر محفوظ رکھنے کے لیے چیزوں کو رکھا جاتا ہے۔

(2)
کھانے پینے کی یا عام استعمال کی اشیاء گھر میں ماپے تولے بغیر پڑی ہوں تو ان میں برکت ہوتی ہے۔

(3)
ام المومنین کے پاس جو بظاہر تھوڑے سے جوتھے ان کا خیال تھا کہ ایک دن میں ختم ہو جائیں گے ماپنے سے معلوم ہو گیا کہ اتنے دن تک استعمال ہو سکتے ہیں چنانچہ اتنے دن گزرے تو وہ ختم ہو گئے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3345]

Sunan Ibn Majah Hadith 3345 in Urdu