🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : دواء الجراحة
باب: زخم کے علاج کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3465
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ:" إِنِّي لَأَعْرِفُ يَوْمَ أُحُدٍ مَنْ جَرَحَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَنْ كَانَ يُرْقِئُ الْكَلْمَ مِنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُدَاوِيهِ , وَمَنْ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ وَبِمَا دُووِيَ بِهِ الْكَلْمُ حَتَّى رَقَأَ , قَالَ: أَمَّا مَنْ كَانَ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ فَعَلِيٌّ , وَأَمَّا مَنْ كَانَ يُدَاوِي الْكَلْمَ فَفَاطِمَةُ , أَحْرَقَتْ لَهُ حِينَ لَمْ يَرْقَأْ قِطْعَةَ حَصِيرٍ خَلَقٍ , فَوَضَعَتْ رَمَادَهُ عَلَيْهِ فَرَقَأَ الْكَلْمُ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ غزوہ احد کے دن کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو زخمی کیا تھا؟ اور کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زخموں کو دھو رہا تھا، اور ان کا علاج کر رہا تھا؟ کون تھا جو ڈھال میں پانی بھر کر لا رہا تھا؟ اور کس چیز کے ذریعے آپ کے زخم کا علاج کیا گیا، یہاں تک کہ خون تھما، ڈھال میں پانی بھر کر لانے والے علی رضی اللہ عنہ تھے، زخموں کا علاج کرنے والی فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں، جب خون نہیں رکا تو انہوں نے پرانی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا، اور اس کی راکھ زخم پر لگا دی، اس طرح زخم سے خون کا بہنا بند ہوا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4803) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبدالمہیمن ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: مشہور یہ ہے کہ عبد اللہ بن قمیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کیا، اور بعضوں نے کہا کہ چار ملعون کافروں (یعنی عبداللہ بن قمیہ اور عتبہ بن ابی وقاص اور عبد اللہ بن شہاب زہری، اور ابی بن خلف) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا عہد کیا تھا، امام نووی تہذیب الأسماء واللغات میں کہتے ہیں کہ عتبہ بن ابی وقاص وہی ہے جس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی کیا، اور احد کے دن آپ کا دانت توڑا میں نہیں جانتا کہ وہ مسلمان ہوا ہو، اور نہ آگے اس کو صحابہ میں ذکر کیا، اور بعضوں نے کہا وہ کافر مرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد المھيمن بن عباس ضعيف
و الحديث السابق (الأصل: 3464) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 502

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيىصحابي
👤←👥العباس بن سهل الأنصاري
Newالعباس بن سهل الأنصاري ← سهل بن سعد الساعدي
ثقة
👤←👥عبد المهيمن بن عباس الساعدي
Newعبد المهيمن بن عباس الساعدي ← العباس بن سهل الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن أبي فديك الديلي، أبو إسماعيل
Newمحمد بن أبي فديك الديلي ← عبد المهيمن بن عباس الساعدي
صدوق حسن الحديث
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← محمد بن أبي فديك الديلي
ثقة حافظ متقن
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3465 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3465
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے خواتین جہاد میں شریک ہوتی تھیں۔
بعد میں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد میں عورتوں کے شریک ہونے کی حوصلہ افزائی نہیں فرمائی۔

(2)
غزوہ احد میں جب دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئےتھے۔
اس وقت عتبہ بن ابی وقاص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلو کے بل گر گئے اور آپ کا نچلا درمیانی دانت ٹوٹ گیا۔
اور آپ کا نچلا ہونٹ زخمی ہوگیا۔
عبد اللہ بن شہاب زہری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی زخمی کردی۔
عبد اللہ بن قمہ کی تلوار کے وار سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خود کی دو کڑیاں چہرے کے اندر دھنس گئیں۔ (الرحیق ا لمختوم، ص: 365)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3465]